سائنسدانوں کا فالج کے مریضوں کو بولنے کے قابل بنانے والا اے آئی کالر تیار
لندن: (ویب ڈیسک) کیمبرج یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے پہننے کے لیے ایک جدید کالر تیار کیا ہے جو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے فالج کے مریضوں کو دوبارہ اپنی آواز میں بولنے کے قابل بناتا ہے۔
اے آئی ڈیوائس، جسے ری وائس (ReVoice) کا نام دیا گیا ہے، پہننے والے کے سپیچ سگنلز اور جذباتی اشاروں کو ڈی کوڈ کر کے ٹوٹے اور غیر واضح الفاظ کو دوبارہ قابلِ فہم آواز میں تبدیل کرتی ہے، اس طرح مریض قدرتی انداز میں گفتگو کے قابل ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ جدید کالر موجودہ اسسٹیو اسپیچ ٹیکنالوجیز کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے کیونکہ روایتی ٹیکنالوجیز یا تو غیر مؤثر ثابت ہوتی ہیں یا ان کے لیے خطرناک دماغی امپلانٹس کی ضرورت پیش آتی ہے۔
یونیورسٹی آف کیمبرج کے پروفیسر لوئیگی اوچی پنٹی کا کہنا ہے کہ فالج کے مریض عموماً کچھ مشقوں کے بعد مخصوص جملے یا ڈرلز تو دہرا سکتے ہیں تاہم روزمرہ کی قدرتی گفتگو میں انہیں شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ بیشتر مریض وقت کے ساتھ اپنی زیادہ تر یا مکمل بولنے کی صلاحیت دوبارہ حاصل کر لیتے ہیں، اس لیے پیچیدہ دماغی امپلانٹس کی ضرورت نہیں رہتی۔
پروفیسر کے مطابق ایسی ٹیکنالوجی کی اشد ضرورت ہے جو زیادہ فطری، استعمال میں آسان اور پورٹ ایبل ہو، اور ری وائس اے آئی کالر اس سمت میں ایک اہم پیش رفت ہے۔