حماس کے غیر مسلح ہونے تک غزہ پر کنٹرول برقرار رہے گا: نیتن یاہو
تل ابیب: (ویب ڈیسک) اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے غزہ کے مستقبل کے حوالے سے اپنا منصوبہ پیش کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو نے دھمکی دی کہ اسرائیلی فوج دریائے اردن سے بحیرۂ روم تک پورے علاقے پر سیکیورٹی کنٹرول رکھے گا جس میں غزہ بھی شامل ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ غزہ کی تعمیرِ نو سے قبل حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنا اور سرنگوں سمیت اس کے عسکری ڈھانچے کا خاتمہ کرنا ضروری ہے، انہوں نے واضح کیا کہ حماس کے غیر مسلح ہونے تک غزہ پر سیکیورٹی کنٹرول ہماری فوج کا رہے گا۔
نیتن یاہو کی یہ پریس کانفرنس اس وقت ہوئی جب غزہ سے آخری مقتول اسرائیلی یرغمالی ران گویلی کی لاش اسرائیل سے واپس لائی گئی، اس سے غزہ جنگ بندی معاہدے کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا، حماس نے اسرائیل کو تمام زندہ یرغمالیوں کو واپس کردیا اور ہلاک ہوجانے والے اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں بھی واپس کردیں۔
یہ بھی پڑھیں: حماس کا غزہ کی نئی فلسطینی انتظامیہ میں اپنے اہلکار ضم کرنے کا مطالبہ
اسرائیلی وزیرِاعظم نے مزید بتایا کہ مصر سے ملحق رفح کراسنگ جلد دونوں طرف کے لیے کھولی جائے گی تاہم وہاں سے صرف لوگوں کی آمد و رفت ہوگی سامان لانے لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ روزانہ تقریباً 50 افراد اور ان کے اہلِ خانہ کو داخلے کی اجازت دی جا سکتی ہے اور تمام افراد کی سخت جانچ پڑتال کی جائے گی، کسی کو غزہ چھوڑنے سے نہیں روکیں گے۔
اسرائیلی وزراعظم نیتن یاہو نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ خود مختار اور علیحدہ فلسطینی ریاست قائم نہیں ہونے دی جائے گی، انہوں نے قطر اور ترکی کے کسی بھی فوجی کردار کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کے فوجی غزہ میں تعینات نہیں ہوں گے۔
نیتن یاہو کے بقول غزہ کی سول انتظامیہ کے لیے قائم ٹیکنوکریٹ کمیٹی پر بھی اسرائیل کی سخت جانچ پڑتال جاری ہے تاکہ حماس کے عسکری ونگ سے وابستہ افراد شامل نہ ہوں۔