شاعر، نعت گو اور مزاح نگار سلمان گیلانی انتقال کر گئے، فضل الرحمان کا اظہارِ افسوس

لاہور:(دنیا نیوز) لاہور سے تعلق رکھنے والے معروف شاعر، نعت گو اور مزاحیہ شاعری کے ممتاز نام سید سلمان گیلانی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔

سید سلمان گیلانی  74 برس کے تھے اور کچھ عرصے سے شیخ زید ہسپتال میں زیرِ علاج تھے،انہیں مذہبی اور ادبی حلقوں میں خاص مقام حاصل تھا، وہ ختمِ نبوت کے پرجوش حامی اور تحریک ختمِ نبوت کے معروف رہنما سید امین گیلانی کے صاحبزادے تھے،انہوں نے اپنے والد کی طرح دینِ اسلام، نعت رسولؐ اور سماجی موضوعات پر منفرد انداز میں شاعری کی۔

 مرحوم اپنی برجستہ مزاحیہ شاعری اور طنزیہ کلام کی بدولت مشاعروں کی جان سمجھے جاتے تھے، اُن کا اندازِ بیان شائستگی اور شگفتگی کا حسین امتزاج تھا، جس سے محفلیں زعفران زار ہو جاتیں، نعتیہ کلام میں بھی ان کی پہچان نمایاں تھی، جس پر انہیں ’شاعرِ ختمِ نبوت‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔

1951 میں لاہور میں پیدا ہونے والے سید سلمان گیلانی نے پوری زندگی ادب، مذہب اور سماجی شعور کے فروغ کے لیے وقف کیے رکھی۔ ان کی تصنیف ’میری باتیں ہیں یاد رکھنے کی‘ کو بھی قارئین میں پذیرائی ملی، جس میں ان کی یادداشتیں اور مشاہدات شامل ہیں۔

وہ نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونِ ملک بھی مشاعروں میں شرکت کرتے رہے اور نعت و ختمِ نبوت کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے۔ ان کے انتقال پر ادبی، مذہبی اور سماجی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شعرا، سیاسی و سماجی شخصیات کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔

مرحوم کے پسماندگان میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں، مرحوم کا نمازِ جنازہ اتوار کو صبح 10 بجے مصطفیٰ ٹاؤن میں ادا کی جائے گی۔

 سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کا اظہارِ افسوس 

دوسری جانب مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سید سلمان گیلانی مرحوم کی رحلت کی خبر سے دل رنجیدہ اور افسردہ ہے، انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مرحوم کو سوز و گداز سے بھرپور آواز اور دلنشین طرزِ بیان عطا کیا تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں