انگلش آل راؤنڈر معین علی پاکستانی کرکٹرز کی حمایت میں ڈٹ گئے
لندن: (ویب ڈیسک) انگلش آل راؤنڈر معین علی پاکستانی کرکٹرز کی حمایت میں ڈٹ گئے۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کھلاڑیوں کو یہ محسوس ہوا کہ دی ہنڈرڈ میں پاکستانیوں کو بھارتی مالکان کی جانب سے جان بوجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے تو وہ اس کے خلاف آواز اٹھائیں گے، اس نوعیت کا امتیازی سلوک برطانیہ میں نہیں ہو سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی کرکٹرز کو محض ان کی قومیت کی بنیاد پر نظر انداز کرنا انتہائی افسوسناک ہوگا، انگلش بورڈ اس معاملے کی روک تھام کیلئے اقدامات کرے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ برطانیہ میں ایسا ہو سکتا ہے، ہمیں انتظار کرنا ہوگا کہ کیا ہوتا ہے لیکن اگر ایسا ہوا تو یہ بہت افسوسناک ہوگا، مجھے یقین ہے کہ ای سی بی اس پر نظر رکھے گا، اگر کھلاڑیوں کو لگا کہ دی ہنڈرڈ کی ٹیموں کے مالکان امتیازی رویہ اختیار کر رہے ہیں تو وہ متحد ہو کر آواز اٹھائیں گے، پلیئرز کا ایک گروپ ضرور بولے گا۔
میرا خیال ہے کہ جس کھلاڑی کو بھی اس قسم کے معاملات پر تشویش ہو اسے کچھ کہنا چاہیے، چاہے اس کا پاکستانی پس منظر ہو یا نہ ہو آواز اٹھانی چاہیے، یہ خبر ابھی نئی ہے، اس لئے میں نے زیادہ لوگوں سے بات نہیں کی لیکن بیشتر کھلاڑی ایک ہی سوچ رکھتے ہوں گے۔
انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں خرابی کے بعد بنگلہ دیشی کھلاڑی بھی ایسے رویے کا سامنا کر سکتے ہیں۔
معین علی نے تسلیم کیا کہ کھلاڑیوں کیلئے اس معاملے پر بات کرنا آسان نہیں کیونکہ اس کے ان کے کیریئر پر اثرات پڑ سکتے ہیں، یہ ٹیمیں دنیا بھر کی ہر لیگ میں موجود ہیں، نوجوان کھلاڑی مشکل پوزیشن میں ہوتے ہیں، البتہ میرے جیسے سینئر کھلاڑی کو اب زیادہ فکر نہیں ہوتی۔
انہوں نے کہا یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ کسی کھلاڑی کو اس کے پس منظر کی وجہ سے نظر انداز کیا گیا تاہم اگر کئی سال تک پاکستانی کھلاڑی منتخب نہ کیے جائیں تو معاملہ واضح ہو جائے گا۔
انگلش آل راؤنڈر نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان انگلینڈ کے نیوٹرل مقام پر میچز ہوں، یہ ٹیسٹ کرکٹ کیلئے شاندار اور شائقین کی تعداد و جوش ناقابلِ یقین ہوگا۔