ماسکو، اسلام آباد میڈیا فورم: پاک، روس تعلقات کو نئی سطح پر لے جانے کا عزم

ماسکو: (شاہد گھمن سے) روسی دارالحکومت میں منعقدہ ماسکو، اسلام آباد میڈیا فورم میں پاکستان اور روس کے درمیان تیزی سے فروغ پاتے تعلقات، علاقائی سلامتی اور اطلاعاتی تعاون پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا، فورم وزیرِاعظم میاں محمد شہباز شریف کے آئندہ دورۂ ماسکو کے تناظر میں منعقد ہوا۔

میڈیا فورم سے خطاب کرتے ہوئے روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ پاکستان اور روس کے تعلقات مثبت پیش رفت کی جانب گامزن ہیں اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے خواہشمند ہیں، حالیہ برسوں میں سیاسی، اقتصادی، دفاعی، تعلیمی اور عوامی روابط میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ہونے والی متعدد ملاقاتیں اعلیٰ سطحی سفارتی روابط کے تسلسل کی عکاسی کرتی ہیں جبکہ آئندہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان پانچواں اہم سربراہی رابطہ ہوگی۔

سفیرپاکستان نے اعلان کیا کہ وزیرِاعظم کے دورے کے موقع پر پاکستان، روس بزنس فورم منعقد کیا جائے گا جس میں 100 سے زائد پاکستانی کمپنیاں روسی ہم منصب اداروں سے ملاقاتیں کریں گی تاکہ تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبوں میں عملی پیش رفت کو یقینی بنایا جا سکے۔

قدرتی آفات کے شعبے میں تعاون کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ روس نے 2005 کے زلزلے اور 2022 کے سیلاب کے بعد پاکستان کو بروقت انسانی امداد فراہم کی، نومبر 2025 میں روسی ایمرجنسی سروسز کے وفد نے اسلام آباد کا دورہ کیا جبکہ حال ہی میں روسی وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ سطحی وفد نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) سمیت متعلقہ اداروں سے ملاقاتیں کیں، دونوں ممالک نے قدرتی آفات کی پیشگوئی، تدارک اور بحالی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

سفیر پاکستان نے مزید کہا ہے کہ روس جنوبی ایشیا میں پاکستان کو وسیع تر یوریشیائی خطے کا اہم شراکت دار سمجھتا ہے اور کثیر القطبی عالمی نظام میں علاقائی تعاون ناگزیر ہو چکا ہے۔

علاوہ ازیں، روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے ماسکو،اسلام آباد میڈیا فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ فورم دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ یہاں نہ صرف سیاسی رہنما اور سفارتکار بلکہ صحافی بھی شریک ہوتے ہیں جو معلوماتی اور ثقافتی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہیں۔

ماریہ زخارووا نے کہا ہے کہ آج کے عالمی منظر نامے میں معلومات ایک نئی عالمی طاقت بن گئی ہیں اور میڈیا کے ذریعے دنیا میں اثر و رسوخ اور قومی مفادات کے تحفظ کی نئی جہتیں سامنے آئی ہیں، صحیح معلومات تک رسائی اور شفاف تبادلہ خیالات سے ہم ایک مضبوط اور متوازن عالمی نظام قائم کر سکتے ہیں، جہاں مختلف ثقافتیں اور تہذیبیں اپنے منفرد کردار کے ساتھ ترقی کر سکیں۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ موجودہ دور میں معلومات کا غلط استعمال یا پروپیگنڈا، جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل وسائل کے ذریعے قوموں کے سیاسی اور معاشرتی استحکام پر اثر انداز ہو سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ میڈیا فورمز جیسے ماسکو، اسلام آباد فورم نہایت اہم ہیں کیونکہ یہ ایک تعمیری اور باہمی معلوماتی مکالمہ فراہم کرتے ہیں جو عالمی تعلقات میں اعتماد اور تعاون کو فروغ دیتا ہے۔

ماریہ زخارووا نے اختتام پر کہا کہ روس اور پاکستان کے درمیان میڈیا، تعلیم، ثقافت اور معلوماتی شعبوں میں تعلقات کی مضبوطی نہ صرف دوطرفہ روابط کو فروغ دیتی ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک مستحکم، متوازن اور متنوع عالمی نظام کے قیام میں بھی معاون ہے۔

پاکستان میں روس کے سفیر البرٹ خوریف نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ میڈیا فورم اور دیگر مشترکہ سرگرمیاں دونوں ممالک کے ماہرین کو ایک دوسرے کے نظریات اور قومی مفادات کو بہتر سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں اور دوطرفہ تعلقات کے مزید فروغ کے لیے راہیں متعین کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج کے عالمی منظر نامے میں ایک قطبی عالمی نظام ختم ہو چکا ہے اور عالمی تعلقات میں کثیرالمرکزی نظام مضبوط ہو رہا ہے، جنوبی ممالک کی اہمیت بڑھ رہی ہے لیکن اسی دوران نئے چیلنجز، خطے میں تنازعات، غیر قانونی یکطرفہ پابندیوں اور انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے خطرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

سفیر نے زور دیا کہ ایسے میں پاکستان اور روس کے درمیان تعاون اہم ہے تاکہ علاقائی استحکام، اقتصادی روابط اور انسانی شعبوں میں باہمی مفاد کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

جیوپولیٹیکل ماہر روکسولانا زیگون نے کہا کہ ماسکو اور اسلام آباد کے درمیان حالیہ تعاون عوامی سفارت کاری اور روایتی سفارت کاری کے مضبوط امتزاج کا نتیجہ ہے، اگرچہ سرد جنگ کے دوران تعلقات میں اتار چڑھاؤ رہا، تاہم عالمی طاقت کے توازن میں تبدیلی اور علاقائی حالات نے دونوں ممالک کو مشترکہ سٹریٹجک اہداف کے قریب لایا۔

انہوں نے افغانستان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2010 کی دہائی کے اوائل میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں نے روس اور پاکستان کو تعلقات کی بحالی کا موقع فراہم کیا، جس کے بعد مختلف شعبوں میں تعاون میں تیزی آئی۔

روکسولانا زیگون کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو اکثر تنہا کھڑا ہونا پڑا اور بین الاقوامی میڈیا میں پاکستان کے حوالے سے منفی بیانیے بھی دیکھنے میں آئے، جو زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔

میڈیا فورم سے سینیٹر مشاہد حسین سید، ڈائریکٹر جنرل انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد اعزاز احمد چوہدری اور دیگر ممتاز مقررین نے بھی خطاب کیا۔

فورم کا مشترکہ اہتمام روسیا سیوودنیا میڈیا گروپ، وزارتِ اطلاعات و نشریات پاکستان، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان اور دیگر اداروں نے کیا۔

تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان اور روس باہمی احترام، مشترکہ مفادات اور علاقائی استحکام کی بنیاد پر اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں