قومی سلامتی کمیٹی کی کارکردگی اور اثرات کی جائزہ رپورٹ جاری

اسلام آباد: (دنیا نیوز) پلڈاٹ نے پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کی کارکردگی اور اس کے اثرات کی جائزہ رپورٹ جاری کر دی۔

پلڈاٹ نے 5 مارچ 2025 کو وزیراعظم شہباز شریف کی وزارت عظمیٰ کا دوسرا سال شروع ہونے کے بعد اور اس عرصے کے دوران کی رپورٹ جاری کی۔

رپورٹ کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس سال میں تین مواقع پر بلایا گیا، کمیٹی کے امور بڑے پیمانے پر عدم تسلسل اور ردعمل پر مبنی بیانیے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

پلڈاٹ رپورٹ کے مطابق اپریل تا جون 2025 کے اجلاسوں نے سول ملٹری مشاورت اور قومی ردعمل کو آسان بنانے میں قومی سلامتی کمیٹی کے اہم کردار پر زور دیا۔

رپورٹ کے مطابق اجلاس ہندوستان کے مقبوضہ کشمیر میں پہلگام حملے اور سرحد پار بڑھتی ہوئی کشیدگی کے جواب میں بلائے گئے تھے۔

پلڈاٹ رپورٹ کے مطابق جون 2025 کے اجلاس نے ایران پر اسرائیلی حملوں سمیت علاقائی پیشرفتوں کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی کی صلاحیت کو مزید ظاہر کیا۔

رپورٹ کے مطابق فوری طور پر دو طرفہ بحرانوں سے ہٹ کر تزویراتی غور و فکر کے پلیٹ فارم کے طور پر اس کی صلاحیت کو اجاگر کیا۔

پلڈاٹ رپورٹ کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کا مجموعی استعمال اور اس کے اجلاس عدم تسلسل اور بے قاعدگی کا شکار رہے۔

کمیٹی ایک باقاعدہ فورم کے بجائے بنیادی طور پر بحران سے نمٹنے کے طریقہ کار کے طور پر کام کرتی ہے، قومی سلامتی ڈویژن قومی سلامتی کمیٹی کے عدم تسلسل اور بے قاعدگی سے ہونے والے اجلاس کی وجہ سے کم استعمال ہوا۔

رپورٹ کے مطابق قومی سلامتی ڈویژن کا مقصد تجزیاتی اور آپریشنل مدد فراہم کرنا تھا، متوازی کوآرڈی نیشن میکانزم نے کمیٹی کی ادارہ جاتی اہمیت اور تزویراتی ہم آہنگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

پلڈاٹ نے تجویز دی کہ قومی سلامتی کمیٹی کو تزویراتی اور سول ملٹری مشاورت کے لیے ایک باقاعدہ فورم کے طور پر ادارہ بنایا جائے، ادارے میں ملکی اور بین الاقوامی سلامتی کی پیشرفت کا فعال طور پر جائزہ لینے کے لیے ماہانہ میٹنگز کی جائیں۔

رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی وزارت عظمیٰ کا دوسرا سال قومی سلامتی کے ایک ڈھانچے کی عکاسی کرتا ہے۔

پلڈاٹ کے مطابق ادارہ جاتی تعاون، پالیسی میں ہم آہنگی اور تزویراتی دور اندیشی کو بڑھانے کے لیے باقاعدہ اور مستقبل کے حوالے سے قومی سلامتی کمیٹی کے مباحثے ضروری ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں