ہماری گندم شارٹ، سی این جی بھی بند، لوگ سڑکوں پر آ سکتے ہیں: گورنر کے پی
اسلام آباد، پشاور: (دنیا نیوز) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ایک طرف ہماری گندم شارٹ ہے، اوپر سے سی این جی بھی بند کر دی گئی، لوگ سڑکوں پر آ سکتے ہیں۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ آئین میں وزیر اعلیٰ جتنے وزیر رکھ سکتے ہیں اتنے ہی ہیں، ایک وزیر دس دس وزارتیں چلائے تو یہ بھی بوجھ ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئین کہتا ہے جس صوبے میں گیس پیدا ہوتی ہے پہلا حق اس کا ہے، پنجاب سے گندم سمگل ہوکر کے پی آتی ہے تو آٹا مہنگا ہوتا ہے، کے پی کے لوگ سڑکوں پر نکل آئے تو کس کی ذمہ داری ہوگی، لوگوں کو روٹی نہیں دیں گے تو وہ سڑکوں پر آئیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے کہا ہے صوبے کے لیے کام کریں، اڈیالہ کی طرف دھیان نہ دیں، دو پی ٹی آئی ہوں، ایک حکومت چلانے کے لیے اور ایک اڈیالہ کے لیے، جب بھی الیکشن ہوں گے وزیراعظم بلاول بھٹو ہی بنیں گے۔
قبل ازیں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی، جس میں امن و امان، سی این جی اسٹیشنز کی بندش اور پنجاب سے گندم کی ترسیل سمیت اہم صوبائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سی این جی کی بندش آئین کی خلاف ورزی ہے اور گندم اور سی این جی کی بندش سے غریب طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے، اگر پنجاب راہداری فراہم کرے تو صوبہ سندھ سے گندم حاصل کی جا سکتی ہے، بصورت دیگر خیبرپختونخوا کو گندم مہنگے داموں خریدنی پڑ رہی ہے، سندھ حکومت خیبرپختونخوا کو گندم فراہم کرنے پر آمادہ ہے۔
گورنر نے خیبرپختونخوا پولیس کی تنخواہوں میں اضافے کے معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا اور چیف سیکرٹری کو ہدایت کی کہ وہ دیگر صوبوں کی پولیس کی تنخواہوں اور مراعات کا جائزہ لے کر سفارشات صوبائی حکومت کو بھجوانے کے لیے تیار کریں۔
گورنر خیبرپختونخوا نے صوبے میں پہلی بار ساؤتھ ایشیا کامن ویلتھ ویمن پارلیمنٹیرینز کانفرنس کے انعقاد کو ایک اعزاز قرار دیا، ملاقات میں اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی، وزیر اطلاعات شفیع جان اور چیف سیکرٹری بھی موجود تھے۔