روس کے ساتھ تجارت بڑھانے کیلئے متبادل راستوں پر کام جاری ہے، فیصل نیاز ترمذی
سینٹ پیٹرزبرگ: (شاہد گھمن) روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں، تاہم بین الاقوامی پابندیوں کے باعث ادائیگیوں کے نظام میں بعض مشکلات درپیش ہیں جن کے حل کے لیے متبادل ذرائع اور طریقہ کار پر کام کیا جا رہا ہے۔
فورم میں دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم (SPIEF) میں پاکستانی وفد کی سرگرمیاں نہایت مثبت اور مؤثر رہی ہیں، جہاں مختلف ممالک کے ساتھ تجارتی و اقتصادی روابط کو آگے بڑھانے کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
سفیر پاکستان نے کہا کہ فورم میں شریک پاکستانی کاروباری شخصیات نے انہیں بتایا ہے کہ روس کے ساتھ تجارت کے لیے نئے سمندری راستے استعمال کیے جا رہے ہیں، جس سے تجارتی سرگرمیوں میں سہولت پیدا ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ذریعے تجارتی راہداریوں اور کرغزستان سمیت وسطی ایشیائی ممالک کے راستے زمینی تجارت کے امکانات بھی بڑھ رہے ہیں، جو مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔
فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ ادائیگیوں کے نظام میں پابندیوں کی وجہ سے کچھ رکاوٹیں موجود ہیں، تاہم ان کے متبادل مالیاتی اور تجارتی طریقہ کار پر سنجیدگی سے کام جاری ہے تاکہ دوطرفہ تجارت کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم روس کا سب سے بڑا اقتصادی فورم ہے جہاں دنیا بھر سے حکومتی شخصیات، سرمایہ کار، صنعت کار اور ماہرین تعلیم شرکت کرتے ہیں، اس فورم میں صرف تجارت ہی نہیں بلکہ تعلیم، ٹیکنالوجی، تحقیق اور بین الاقوامی تعاون کے مختلف شعبوں پر بھی سیشنز منعقد کیے جاتے ہیں۔
سفیر پاکستان نے کہا کہ چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی فار واٹر ریسورسز رانا محمد عتیق انورکی فورم میں مختلف سیشنز کے دوران متعدد ملاقاتیں ہوئیں، جن میں مختلف ممالک کے نمائندوں، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ تعمیری تبادلہ خیال کیا گیا، ان ملاقاتوں میں آبی وسائل، توانائی، انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر مثبت پیش رفت سامنے آئی۔
فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ ایسے بین الاقوامی فورمز ممالک کو ایک دوسرے کے تجربات، اقتصادی پالیسیوں اور ترقیاتی ماڈلز سے سیکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں، جس سے باہمی تعاون کے نئے دروازے کھلتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان آئندہ سال اس فورم میں مزید فعال اور وسیع شرکت کا ارادہ رکھتا ہے، جس میں ملک کی بڑی کاروباری کمپنیوں کو بھی شامل کیا جائے گا تاکہ روس اور دیگر عالمی منڈیوں میں پاکستانی کاروبار کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم میں پاکستان کی مسلسل شرکت سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون میں نمایاں اضافہ ہوگا۔