میر رضا کیس: بزنس پارٹنر احمد کیخلاف ایک بھی چیز نہیں: وکیل خالد ممتاز
کراچی: (دنیا نیوز) میر رضا کے بزنس پارٹنر احمد اور وینڈر عبداللہ کے وکیل خالد ممتاز ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ کمیشن احمد سے اس انداز سے سوال کر رہا تھا جیسے وہ ملزم ہو، احمد بطور گواہ کمیشن کے سامنے پیش ہوا تھا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خالد ممتاز ایڈووکیٹ نے کہا کہ میر رضا ایک دو دفعہ پہلے بھی اسلام آباد جا چکا تھا، احمد اس وقت اس بات کو اتنا سیریس نہیں لے رہا تھا، ایک ماہ ہونے سے زیادہ کے باوجود ابھی تک احمد نے اپنی شاپ نہیں کھولی۔
انہوں نے کہا کہ میر رضا کے والد بہادر آباد گئے اور کہا کہ شاپ کھولو لیکن ملازمین نے منع کیا، جس پر میر رضا کے والد غصے میں تھے، کمیشن جو فائنڈنگ دے گا اس پر ہم بات کریں گے۔
خالد ممتاز ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ساڑھے چار کروڑ روپے کا قرضہ میر رضا اپنے والد کا چکا رہا تھا، وہ ان کا فیملی پرابلم ہے، اس پر بات نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ احمد میر رضا کے سوئم میں شریک رہا ہے، ایک بھی چیز احمد کے خلاف نہیں ہے، میڈیا پر معاملہ ہائی پروفائل ہوچکا ہے۔
وکیل نے کہا کہ میر رضا کے والد کا بھی فون انویسٹی گیشن کے لیے مانگا گیا مگر انہوں نے نہیں دیا، 29 سے 31 تک والد نے اپنے بیٹے سے رابطہ کیوں نہیں کیا، میر رضا نے عبداللہ کو کچھ دن پہلے بتایا تھا کہ میرے والد نے ایک اور غلطی کردی ہے۔
خالد ممتاز ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ احمد گیا تھا مگر اس کی والدہ نے اسے برا بھلا کہا تھا، ہم وقت آنے پر سب کچھ ایک ایک کرکے بتائیں گے۔
دوسری جانب میر رضا کے بزنس پارٹنر احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں پہلے دن سے انویسٹی گیشن میں تعاون کر رہا ہوں، میں حق اور سچ کی بات کروں گا۔
احمد نے کہا کہ 5، 6 لاکھ روپے میں بزنس نہیں سمیٹا جاتا، میں 30 جولائی سے انڈر انویسٹی گیشن تھا، انویسٹی گیشن کے بھی کچھ طریقہ کار ہوتے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments