مرنے والوں کی کہانیاں سُناتے گھانا کے منفرد تابوت
اکرا: (ویب ڈیسک) افریقی ملک گھانا میں مرنے والے کی زندگی، پسندیدہ شخصیت، پیشے یا دوسری پسندیدہ چیزوں کی مناسبت سے تابوت تیار کیے جاتے ہیں جو وہاں کے لوگوں کے مطابق مرنے والے کو خراج عقیدت پیش کرنے کا ایک خاص انداز ہے۔
فریڈرک ٹیکو اوفوری نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ ہاتھ میں گٹار لیے ہوئے گزارا، اس لیے جب ایک ٹریفک حادثے میں ان کی موت ہوئی تو اہل خانہ نے فیصلہ کیا کہ آخری سفر میں یہ ساز بھی ان کے ساتھ ہونا چاہیے، جس پر تابوت کو ایک بڑے گٹار کی شکل کا بنایا گیا۔
دارالحکومت اکرا کے مضافاتی علاقے ادجین کوتوکو آمواما میں ہونے والے فریڈرک ٹیکو اوفوری کا آخری سفر اسی تابوت کی وجہ کافی منفرد رہا اور یہی لوگوں کی توجہ کا مرکز بھی رہا، تابوت کے ارد گرد سرخ پھول رکھے گئے تھے جبکہ اس کے اوپر 40 سالہ موسیقار کی تصویر بھی لگائی تھی جہاں تقریب کے لیے لگائے گئے شامیانوں کے نیچے سوگوار جمع تھے۔
پورے ملک خصوصاً دارالحکومت کے قریبی علاقوں میں آباد کمیونیٹیز میں منفرد تابوت کو ایک جذباتی اور آخری خراج تحسین سمجھا جاتا ہے، یہاں مرنے والے مچھیروں کو انسانی قد سے بڑے مچھلی یا کشتی نما تابوت میں دفن کیا جاتا ہے جبکہ کسانوں کے لیے کوکووا پوڈز کے پھل کی شکل کے تابوت تیار کیے جاتے ہیں۔
ڈرائیوروں کے لیے گاڑی کی طرح تابوت بنتے ہیں جبکہ مذہبی شخصیات کے لیے بائبل سے مشابہہ تابوت بنائے جاتے ہیں، اسی طرح جن لوگوں کو موبائلز سے لگاؤ ہو ان کے تابوت بھی اسی سے مشابہہ بنائے جاتے ہیں۔

فریڈرک اوفوری اپنے پیچھے اہلیہ، بچے اور موسیقی کی ایسی میراث چھوڑ گئے ہیں جو اچانک ہی ختم ہوئی جبکہ ان کے ہاں ایک ہفتہ قبل بھی ایک بچے کی پیدائش ہوئی تھی، تاہم زندگی کی طرح موت کے بعد بھی گٹار ان کی شناخت کا اہم حصہ رہے گا۔
لکڑی سے بنا یہ تابوت مقامی کاریگر 54 سالہ ڈینیئل اوبلی مینسہ نے تیار کیا ہے، وہ پچھلے 30 برس سے اس کام سے وابستہ ہیں اور لوگوں کے پیشے، شوق اور سماجی حیثیت کی مناسبت سے ان کی آخری آرام گاہ کو شکل دیتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ جب بھی کوئی پیشے سے متعلق تابوت بنانے کا کہتا ہے تو مجھے خوشی ہوتی ہے، اس سے مجھے مرنے والے اور خاندان والوں کے لیے محبت کے اظہار کا موقع ملتا ہے۔
20 ویں صدی کے وسط میں اکرا شہر کے قریبی علاقوں میں ایسے تابوت بنانے والوں نے کافی فروغ پایا جو کہ اس وجہ سے بھی مشہور ہوا کہ اس سے قبل وہاں قبائلی سرداروں کے لیے انتہائی دیدہ زیب اور مختلف اشکال کی پالکیاں بنائی جاتی تھیں اور اسی کا اثر تابوتوں تک بھی پہنچا۔
یہ تابوت آج کے دور میں جدید فن مصوری و مجسمہ سازی میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں، ان کو بنانا کافی مہارت کا کام ہے اور اس میں بہت محنت بھی صرف ہوتی ہے مگر تدفین کے ساتھ ہی یہ فن پارے زمین کے نیچے چلے جاتے ہیں۔
ایسے ہی کچھ فن پارے عجائب گھروں کا بھی حصہ ہیں جن کو لوگ دیکھنے جاتے ہیں، ان میں گھانا کے معروف فنکار پاجو کا تیار کردہ گٹار نما تابوت بھی شامل ہے جو نیویارک کے میٹروپولیٹین میوزیم آف آرٹ میں رکھا گیا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments