سہیل آفریدی کو کسی نے گرفتار نہیں کیا، خود پولیس وین میں بیٹھے: عظمیٰ بخاری

لاہور: (دنیا نیوز) وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو پولیس نے گرفتار نہیں کیا بلکہ وہ خود پولیس کی گاڑی میں بیٹھے۔

پروگرام ’’دنیا مہربخاری کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے دعویٰ کیا کہ سہیل آفریدی بار بار پولیس سے جھگڑا کرنے کی کوشش کرتے رہے، تاہم پولیس اہلکار بدتمیزی اور گالم گلوچ کے باوجود انہیں پروٹوکول دیتے رہے۔

اُنہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی پولیس کی گاڑی میں مسکراتے ہوئے بیٹھے اور کہتے رہے کہ وہ گاڑی سے نہیں اتریں گے، ان کے سوشل میڈیا سے وابستہ ایک شخص ویڈیو بھی بنا رہا تھا۔

وزیراطلاعات پنجاب کا کہنا تھا  کہ پولیس وین کے ڈرائیور کو لگا کہ لوگ گاڑی پر حملہ کرنے لگے ہیں، جس پر اس نے گاڑی آگے بڑھا دی، تاہم کچھ دور جا کر گاڑی روک دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: اشتیاق کی ہلاکت سے متعلق نئی ویڈیو نے واقعے کا رخ بدل دیا: عظمیٰ بخاری

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو پولیس نے گرفتار کیا ہوتا تو پولیس وین میں اہلکار موجود ہوتے، کسی نے سہیل آفریدی کو گرفتار نہیں کیا، وہ خود پولیس کی گاڑی میں بیٹھے تھے، یہ گرفتاری نہیں بلکہ ’’ٹوٹل ڈرامے بازی‘‘ تھی۔

اُن کا کہنا تھا کہ انہوں نے دن کے وقت کی ڈرون فوٹیجز بھی شیئر کی ہیں جب کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اب بھی لاہور میں موجود ہیں، لاہور ایک پرامن شہر ہے جہاں سہیل آفریدی بغیر پولیس کے گھوم پھر رہے ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا میں انہیں ایک کلومیٹر بغیر پولیس کے چل کر دکھانا چاہیے۔

وزیر اطلاعات پنجاب نے پی ٹی آئی رہنماؤں پر ڈرامے بازی کا شوق رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جنید اکبر کو حالات و واقعات کا کچھ علم نہیں، انہیں لگتا ہے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا بلڈ پریشر بہت کم ہوگیا ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...