لاہور ہائیکورٹ: بچے کے قتل کے مقدمے میں عمر قید پانے والا ملزم بری
لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے سکول کے بچے طارق خورشید کو چھری سے گلا کاٹ کر قتل کرنے کے مقدمے میں عمر قید اور جرمانے کی سزا پانے والے ملزم محمد احتشام کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے بری کردیا۔
جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے ملزم محمد احتشام کی اپیل پر تحریری فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے ملزم کو سنائی گئی عمر قید اور تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا ختم کردی۔
فیصلے کے مطابق تھانہ صدر بہاولپور پولیس نے 2023 میں طارق خورشید کے قتل کا مقدمہ درج کیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے مقدمے کی سماعت کے بعد 2024 میں محمد احتشام کو قتل کے جرم میں عمر قید اور تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی، جس کے خلاف ملزم نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔
مقدمے کے مطابق مدعی نے بیان دیا تھا کہ سہ پہر تقریباً تین بجے اس کی بہن کی فون کال آئی کہ طارق خورشید سکول سے واپس نہیں آیا۔ اس کے بعد اہل خانہ نے بچے کی تلاش شروع کی۔ مدعی کے مطابق اسی دوران ایک نامعلوم شخص موٹر سائیکل پر آتا ہوا نظر آیا، جس کے کپڑے اور ہاتھ خون سے آلودہ تھے۔
مقتول کے لواحقین نے الزام عائد کیا تھا کہ ملزم محمد احتشام مقتول بچے پر بری نظر رکھتا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ اس الزام کی تائید میں کوئی قابلِ اعتماد ثبوت یا ٹھوس مواد ریکارڈ پر موجود نہیں تھا۔
عدالت کے مطابق وقوعہ کے موقع پر موجود گواہوں کے بیانات میں بھی اہم تضادات پائے گئے، جس سے استغاثہ کے مقدمے میں شکوک پیدا ہوتے ہیں۔
فیصلے کے مطابق ملزم کو وقوعہ کے 13 روز بعد گرفتار کیا گیا، جبکہ گرفتاری کے بعد پولیس نے اس کے قبضے سے مبینہ طور پر قتل میں استعمال ہونے والی چھری برآمد کی۔
لاہور ہائیکورٹ نے چھری کی برآمدگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے قرار دیا کہ اگر یہی چھری وقوعہ میں استعمال ہوئی تھی تو ملزم اسے وقوعہ کے بعد اتنے عرصے تک اپنے پاس کیوں رکھے گا۔ عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ کے دیگر شواہد میں تضادات کی موجودگی میں محض ایسی برآمدگی ملزم کے خلاف مقدمہ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔
عدالت نے مجموعی شواہد کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف الزام شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ لاہور ہائیکورٹ نے ملزم محمد احتشام کو فائدۂ شک دیتے ہوئے بری کردیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments