ملکی ترقی کا راز مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن میں مضمر ہے: شہباز شریف
اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملکی ترقی کا راز مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن میں مضمر ہے، جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال پاکستان میں تجارت، برآمدات، زرعی پیداوار، کاروباری سہولت اور سرکاری خدمات کے معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت معیشت اور گورننس میں مصنوعی ذہانت (AI)، ڈیجیٹلائزیشن اور اس حوالے سے علی بابا کے ساتھ تعاون کی پیش رفت پر جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ علی بابا کی جانب سے پاکستان کی زرعی اجناس کی چینی مارکیٹوں میں برآمد کیلئے تعاون خوش آئند ہے، ملکی ترقی کیلئے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ناگزیر ہے، علی بابا سے زرعی شعبے میں آٹومیشن کے حوالے سے تعاون بھی خوش آئند ہے۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ علی بابا کے تعاون سے کینسر کی پیشگی تشخیص کے نظام کا اطلاق جلد یقینی بنایا جائے، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت جاری پروگرام اگنائیٹ اور علی بابا کے تعاون سے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں آئی ٹی گریجویٹس کیلئے 15 روزہ تربیتی پروگرام بھی جلد شروع کیا جائے۔
.jpg)
وزیراعظم نے اوگرا کو علی بابا کے تعاون سے پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین کی نگرانی کیلئے ڈیٹا اینالیٹکس کا نظام جلد رائج کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ایکسپورٹ پروموشن بورڈ بھی علی بابا کے ساتھ مل کر ملکی برآمدات میں اضافے کیلئے تعاون یقینی بنائے۔
انہوں نے کہا کہ دورہ چین کے دوران ہانگژو میں علی بابا ہیڈ کوارٹر میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، علی بابا اور حکومت پاکستان کے مابین سٹریٹجک شراکت داری سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کیلئے عالمی منڈیوں تک رسائی اور ملک میں ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ علی بابا گروپ کے ساتھ تعاون کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کیلئے تمام منصوبوں پر واضح اہداف، مقررہ مدت اور مؤثر نگرانی کے ساتھ عملدرآمد یقینی بنایا جائے، متعلقہ وزارتیں نومبر تک تمام ضروری اقدامات مکمل کرکے رپورٹ پیش کریں۔
اجلاس کو حکومت پاکستان اور علی بابا گروپ کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کے تحت مختلف شعبوں میں جاری پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ زراعت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈلز، تمباکو کی ٹریک اینڈ ٹریس ٹیکنالوجی اور سٹرس پھلوں و زیتون کی برآمدات کیلئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر کام جاری ہے جبکہ علی بابا پر پاکستانی مصنوعات کی برآمدات کیلئے خصوصی ویب سائٹ پر پاکستان پویلین بھی قائم کر دیا گیا ہے۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پاکستان سنگل ونڈو کے ذریعے تجارتی دستاویزات کی ڈیجیٹل تصدیق کا نظام فعال کر دیا گیا ہے جبکہ ایس ایم ایز ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور علی بابا کے اشتراک سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی، تربیت اور ای کامرس کے مواقع فراہم کرنے کیلئے دو سالہ پروگرام بھی شروع کیا جا رہا ہے۔
.jpg)
اجلاس میں ایف بی آر اور پرال کیلئے جدید ڈیٹا پلیٹ فارم اور سینٹرل ڈیٹا ہب کی تیاری سمیت صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے کینسر کی تشخیص کے مجوزہ پائلٹ منصوبے پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ توانائی کے شعبے میں اوگرا کو ایندھن کی سپلائی چین کے ڈیٹا کے تجزیے کیلئے مصنوعی ذہانت اور بزنس انٹیلی جنس ٹولز فراہم کیے جا رہے ہیں، اعلیٰ تعلیم، ریلوے، پوسٹل سروس اور شہری انتظام کے شعبوں میں بھی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق اقدامات تکمیل کے مراحل میں ہیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، رانا تنویر حسین، جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، سید مصطفیٰ کمال، عبدالعلیم خان، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments