افغان حکومت اپنی سرزمین دہشت گردوں کو استعمال کرنے دے رہی ہے: پاکستان
نیویارک: (ویب ڈیسک) پاکستان نے افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی مسلسل موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ افغان طالبان حکومت اپنی سرزمین پر ان گروہوں کو سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دے رہی ہے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں افغانستان سے متعلق انٹرایکٹو ڈائیلاگ کے دوران پاکستان کے نمائندے محمد جواد اجمل نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران افغانستان سے ہونے والے دہشت گرد حملوں میں 4,700 سے زائد پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے جنرل اسمبلی کو بتایا کہ اقتدار میں آنے کے پانچ سال بعد بھی طالبان نے انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے کوئی عزم ظاہر نہیں کیا، بنیادی انسانی آزادیوں، خصوصاً خواتین اور لڑکیوں سے متعلق پابندیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
محمد جواد اجمل نے کہا کہ افغانستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال طالبان کی جانب سے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو نظرانداز کرنے کی عکاسی کرتی ہے، انہوں نے خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بنیادی آزادیوں اور انسانی وقار سے محروم کیا جا رہا ہے، جو اسلامی تعلیمات اور اقدار کے منافی ہے۔
انہوں نے جولائی میں اسلام آباد میں پاکستان کی میزبانی میں منعقد ہونے والی خواتین سے متعلق نویں وزارتی کانفرنس کا بھی ذکر کیا، جس میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے اسلام آباد اعلامیہ منظور کیا تھا، اعلامیے میں افغان طالبان کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اسلامی اقدار سے متصادم قرار دیا گیا تھا۔
رچرڈ بینیٹ نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک پر زور دیا کہ جب تک طالبان حکومت اپنی پابندیوں پر مبنی پالیسیوں کو واپس نہیں لیتی، اس وقت تک اس کے ساتھ تعلقات کو معمول پر نہ لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ طالبان کے حالیہ احکامات نے خواتین کے حقوق کو مزید کمزور کر دیا ہے، ان کے خلاف تشدد کو فروغ دینے کے حالات پیدا کیے ہیں اور انہیں تشدد پر مبنی ازدواجی تعلقات سے نکلنے کے مواقع بھی انتہائی محدود کر دیے ہیں، انہوں نے طالبان حکومت کی جانب سے کم عمری کی شادیوں کو قبول کرنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
پاکستان کے نمائندے نے افغانستان سے جڑے سیکیورٹی خدشات کو بھی اجاگر کیا، محمد جواد اجمل نے طالبان پر دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ قریبی روابط برقرار رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ گروہ بیرونی عناصر کی پشت پناہی سے افغان سرزمین پر آزادانہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جن کا مقصد پاکستان اور دیگر پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ طالبان کی جانب سے ان تنظیموں کی کھلے عام مذمت نہ کرنا ان کی سرگرمیوں میں معاونت اور مبینہ ملی بھگت کی عکاسی کرتا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments