آئی سی سی نے کرکٹ کے تمام فارمیٹس کی پلیئنگ کنڈیشنز میں اہم تبدیلیاں کردیں
دبئی: (دنیا نیوز) انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے کرکٹ کے تمام فارمیٹس کی پلیئنگ کنڈیشنز میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے نئے قوانین کا اعلان کردیا ہے، جن کا اطلاق یکم اکتوبر سے شروع ہونے والی تمام انٹرنیشنل سیریز میں ہوگا۔
آئی سی سی کے مطابق ڈے ٹیسٹ میچز میں خراب روشنی کے باعث کھیل کے ضیاع کو کم کرنے کے لیے پنک بال کے استعمال کا تجرباتی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام کے تحت دونوں ٹیموں کی باہمی رضامندی سے میچ شروع ہونے سے قبل پنک بال کے استعمال کا فیصلہ کیا جاسکے گا۔
آئی سی سی نے واضح کیا ہے کہ ایک بار پنک بال کے استعمال پر اتفاق ہوجانے کے بعد میچ کے دوران فیصلہ تبدیل نہیں کیا جاسکے گا، جبکہ میچ شروع ہونے کے بعد ریڈ بال سے پنک بال پر منتقل ہونے کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔
ٹیسٹ کرکٹ میں ایک اور اہم تبدیلی کے تحت دن کے آخری اوور میں وکٹ گرنے پر لازمی طور پر کھیل ختم نہیں ہوگا۔ اگر آخری اوور مکمل نہ ہوا ہو اور موسم و دیگر حالات سازگار ہوں تو کھیل جاری رکھا جاسکے گا۔ آئی سی سی کے مطابق آخری اوور میں وکٹ گرنے کے بعد کھیل ختم کرنے سے وقت کی بچت نہیں ہوتی، کیونکہ باقی گیندیں اگلے روز کرانا پڑتی ہیں۔ نئی تبدیلی سے فیلڈنگ ٹیم کو فائدہ پہنچنے اور میچ میں سنسنی برقرار رہنے کی توقع ہے۔
ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں بھی وقفے سے متعلق قوانین تبدیل کردیے گئے ہیں۔ نئے قانون کے تحت اب 15 منٹ کا مقررہ وقفہ ہوگا، تاہم وقت ضائع ہونے کی صورت میں وقفے کا دورانیہ کم کرکے کم از کم 10 منٹ کیا جاسکے گا۔
ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز میں پانی کے وقفے کے دوران ہیڈ کوچ یا ان کے نامزد نمائندے کو میدان میں آنے کی اجازت ہوگی۔ اس کے علاوہ لیگ سائیڈ وائیڈ سے متعلق آزمائشی قانون کو اب ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں مستقل طور پر نافذ کردیا گیا ہے۔
آئی سی سی نے وقت ضائع کرنے والے بیٹرز کے خلاف بھی سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ نئے قانون کے مطابق اگر کوئی بیٹر مقررہ وقت میں گیند کھیلنے کے لیے تیار نہ ہوا تو پہلی خلاف ورزی پر اسے وارننگ دی جائے گی، جبکہ دوسری خلاف ورزی پر فائنل وارننگ جاری ہوگی۔ تیسری اور اس کے بعد ہر خلاف ورزی پر فیلڈنگ ٹیم کو 5 پینلٹی رنز دیے جائیں گے۔
خواتین کی انٹرنیشنل کرکٹ میں گیند کے سائز اور وزن کے لیے بھی نئی حدود مقرر کردی گئی ہیں، جبکہ اوور تھرو سے متعلق قانون میں موجود ابہام کو دور کردیا گیا ہے۔
نئی وضاحت کے مطابق اگر کوئی فیلڈر اسٹمپس کی جانب رنز روکنے یا رن آؤٹ کرنے کی کوشش میں گیند پھینکتا ہے تو اسے اوور تھرو تصور کیا جائے گا، تاہم گیند روکنے یا دوسرے فیلڈر کو منتقل کرنے کی کوشش کے دوران ہونے والے مس فیلڈ کو اوور تھرو نہیں سمجھا جائے گا۔
آئی سی سی نے رن آؤٹ اور اسٹمپنگ کے قوانین میں بھی وضاحت کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ فیلڈر کے لیے گیند پر مکمل کنٹرول ہونا ضروری ہوگا۔ صرف ہاتھ سے گیند چھونے اور اسی دوران اسٹمپس اکھڑنے کو گیند پر مکمل کنٹرول تصور نہیں کیا جائے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments