بی ایل اے کے مسلح دہشتگردوں نے خاتون کو اغوا کرلیا ، سکیورٹی ادارے متحرک

کیچ: (دنیا نیوز) بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے بالچا میں کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے دہشتگردوں نے ایک بلوچ خاتون کو اغوا کرلیا۔

ذرائع کے مطابق واقعہ آج شام ساڑھے چار سے پونے پانچ بجے کے درمیان پیش آیا، جب ایک کرولا گاڑی ایک گھر کے سامنے آ کر رکی، گاڑی میں سوار مسلح افراد نے نرگس نامی خاتون کو زبردستی اغوا کیا اور موقع سے فرار ہو گئے۔

خاتون کے شوہر اور بھتیجے نے اغوا کاروں کا تعاقب کیا اور ناصرآباد کے قریب گاڑی کو روک لیا، تاہم اس دوران گاڑی سے ایک مسلح شخص کلاشنکوف لے کر باہر آ گیا۔

شوہر کی مزاحمت کے باوجود پیچھے سے 2 موٹر سائیکلیں آ گئیں جن پر بی ایل اے کے جھنڈے لگے ہوئے تھے۔ موٹر سائیکل سواروں نے خاتون کے شوہر پر تشدد کیا، اس کے اور بھتیجے کے موبائل فون چھین لیے اور خاتون کو زبردستی ناصرآباد کے جنگلات کی طرف لے گئے۔

واقعے کی اطلاع فوری طور پر تمام متعلقہ اداروں کو دے دی گئی، جس کے بعد پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے کارروائی شروع کر دی ہے، واقعہ دن دیہاڑے اسلحے کے زور پر پیش آیا، جو ایک منظم دہشتگرد کارروائی کی نشاندہی کرتا ہے۔

یہ واقعہ کسی ذاتی دشمنی یا عام اغوا کا معاملہ نہیں بلکہ بی ایل اے کے اس طرزِ عمل سے مماثلت رکھتا ہے جس کے ذریعے وہ علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے عورتوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوششیں سامنے آتی رہی ہیں۔ پہلے نفسیاتی، سماجی اور جذباتی استحصال، پھر جسمانی تشدّد اور جنسی زیادتی، اور اس کے بعد بلیک میلنگ کے ذریعے خودکش حملوں پر مجبور کرنا اس حکمتِ عملی کا حصہ رہا ہے۔

تشویش ناک حقیقت یہ بھی ہے کہ بعض معاملات میں اغوا شدہ عورتوں کو جنسی غلامی کے لیے رکھا جاتا ہے۔ انہیں خوف، بدنامی اور جان کے خطرے کے ذریعے قابو میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہ مزاحمت نہ کر سکیں اور تنظیم کے مقاصد کے لیے استعمال ہوتی رہیں۔ کیچ کا یہ واقعہ بھی اسی خطرناک پیٹرن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

خدشہ ہے کہ خاتون کو پہلے جبری جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا، پھر بلیک میل کر کے اسے خودکش حملہ آور بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ صرف ایک عورت یا ایک خاندان کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے لیے کھلا خطرہ ہے۔

یہ واقعہ کسی ذاتی دشمنی یا عام اغوا کا معاملہ نہیں بلکہ بی ایل اے کے اس طرزِ عمل سے مماثلت رکھتا ہے جس کے ذریعے وہ علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں