لاہور میں پانی و نکاسی آب تک غیر مساوی رسائی، ایچ آر سی پی کی رپورٹ جاری
لاہور: (دنیا نیوز) ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک کروڑ تیس لاکھ آبادی کے شہر میں فرسودہ واٹر سپلائی اور ٹوٹا ہوا نکاسی آب کا نظام شہریوں کے لیے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کم آمدن آبادیوں، کچی بستیوں، خواتین، ٹرانس جینڈر افراد اور معذور شہریوں کو پانی اور صفائی کی سہولیات کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، ماہر پبلک پالیسی ڈاکٹر امداد حسین کی تحقیق میں بیوروکریسی اور فرسودہ پالیسیوں کو موجودہ بحران کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ مون سون کے دوران شہری سیلاب معمول بن چکا ہے جبکہ ماحولیاتی تبدیلی اور ناقص اربن پلاننگ نے مسائل میں مزید اضافہ کیا ہے۔
ایچ آر سی پی نے پانی اور صفائی کو بنیادی انسانی حق قرار دینے کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کیا ہے اور سفارش کی ہے کہ کچی آبادیوں کو زمین کی ملکیت سے مشروط کیے بغیر پانی اور سیوریج کی سہولت فراہم کی جائے۔
رپورٹ میں صنفی مساوات پر مبنی اور معذور افراد کے لیے قابلِ رسائی پبلک ٹوائلٹس کے قیام، پانی کے میٹرز کی تنصیب کے ذریعے استعمال کو لاگت سے منسلک کرنے اور ضیاع روکنے کی تجاویز دی گئی ہیں۔
مزید برآں سیوریج ورکرز کو مین ہول میں خطرناک انٹری سے روکنے، حفاظتی قوانین کے نفاذ، شہری شکایات کے فوری ازالے کے لیے کمیونٹی بیسڈ میکنزم کے قیام، موسمیاتی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ارلی وارننگ سسٹم اور ہنگامی منصوبہ بندی پر زور دیا گیا ہے، جبکہ پائیدار اور ماحول دوست واٹر گورننس ماڈل اپنانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔