فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی میں اربوں کی بے ضابطگیاں، مقدمہ درج
لاہور: (دنیا نیوز) اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں پر 12 سے زائد افسران کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔
اینٹی کرپشن حکام کے مطابق ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت جاری منصوبے میں مبینہ طور پر ایک ارب روپے سے زائد کا نقصان سرکاری خزانے کو پہنچایا گیا، مقدمہ ڈائریکٹوریٹ آف اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ لاہور کے تھانے میں درج کیا گیا۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق مقدمے میں ایف ڈبلیو ایم سی کے سابق سی ای او محمد رؤف، منیجر آپریشن عبداللہ نزیر باجوہ، منیجر آئی ٹی اسد الٰہی، منیجر فنانس احسن ندیم، ٹرانسپورٹ افسر ارشد سلیم اور پروکیورمنٹ منیجر وقاص اصغر سمیت متعدد افسران کو نامزد کیا گیا ہے۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ 633 مبینہ گھوسٹ سینٹری ورکرز کی فرضی حاضریاں لگا کر سرکاری فنڈز میں خرد برد کی گئی، ایف آئی آر کے مطابق ریکارڈ میں 2317 کنٹینرز ظاہر کیے گئے، تاہم موقع پر صرف 1717 کنٹینرز موجود پائے گئے۔
مزید یہ کہ منی ڈمپرز کی جگہ کم قیمت لوڈر رکشے استعمال کیے گئے جبکہ کرایہ بھاری مالیت کے منی ڈمپرز کے حساب سے وصول کیا جاتا رہا، تحقیقات میں ویسٹ انکلوژرز اور ڈمپنگ سائٹس کے ڈیٹا میں مبینہ جعل سازی اور اضافی ادائیگیوں کا بھی انکشاف سامنے آیا ہے۔
اینٹی کرپشن حکام کے مطابق گاڑیوں کے ٹریکر ڈیٹا میں رد و بدل کرکے بوگس سکورنگ کے ذریعے بھی رقوم نکلوائی گئیں، مقدمے میں نامزد متعدد ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔