تحریک انصاف کی ہسٹری جلاؤ گھیراؤ اور لاشیں گرانا ہے: عطا تارڑ

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی ہسٹری جلاؤ گھیراؤ اور لاشیں گرانا ہے۔

دنیا نیوز کے پروگرام ’’دنیا مہربخاری کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ شہریوں کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے، اسلام آباد کے شہریوں کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے جاری رہتے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف نے تحریک انصاف کو متعدد مرتبہ مذاکرات کی دعوت دی، تاہم حکومت قانون و آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے امن و امان برقرار رکھنے کو ترجیح دے گی۔

وفاقی وزیراطلاعات ونشریات کا کہنا تھا کہ حکومت کسی کو دھمکی نہیں دے رہی، تاہم اسلام آباد میں امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، حکومت نے اپنے شہروں اور شہریوں کا تحفظ کرنا ہے۔

وفاقی وزیر نے تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کی سیاسی سرگرمیوں کی تاریخ جلاؤ گھیراؤ اور بدامنی سے عبارت ہے۔

عطا تارڑ نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف پولیس میں سیاسی بھرتیاں اور ایسا آئی جی تعینات کرنا چاہتی ہے جس سے سیاسی مقاصد حاصل کیے جا سکیں، جبکہ حکومت کے مطابق پولیس کو سیاسی فورس بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اُنہوں نے بانی پی ٹی آئی کے مقدمات کے حوالے سے کہا کہ تحریک انصاف نے ان مقدمات میں ’’نالائق وکیل‘‘ مقرر کیے اور اپنے کیسز خود خراب کیے، انہوں نے بیرسٹر گوہر کو ’’شریف آدمی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے کیا بندوبست ہونا ہے، یہ محض ایک سیاسی بیان ہے۔

کوہاٹ کے حالیہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو زخمیوں سے ملاقات اور انہیں گلے لگانے کا مشورہ دیا۔

عطا تارڑ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز اور پولیس قربانیاں دے رہی ہیں اور زخمی اہلکاروں کی عیادت سمیت شہداء کے خاندانوں کی دیکھ بھال بھی ضروری ہے۔

عطا تارڑ نے مزید الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی ’’بی ٹیم‘‘ ہے اور کہا کہ دہشت گردی کے فروغ کے لیے قانون لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ 

وزیراعلیٰ کی گرفتاری سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ عام طور پر گرفتار نہیں ہوا کرتے اور فی الحال انہیں ایسا کوئی امکان نظر نہیں آتا، انہوں نے واضح کیا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...