چین کی منفرد ایجاد: دنیا کا طویل ترین آؤٹ ڈور ایسکلیٹر، گھنٹوں کا سفر منٹوں میں تبدیل
بیجنگ: (ویب ڈیسک) چین نے ایک بار پھر جدید ٹیکنالوجی اور انفرااسٹرکچر کے میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے دنیا کا طویل ترین آؤٹ ڈور ایسکلیٹر سسٹم تیار کر لیا۔
یہ جدید منصوبہ ’’ووشان گاڈیس ایسکلیٹر‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، جو چونگ چنگ کے ضلع ووشان میں قائم کیا گیا ہے، اس علاقے میں دشوار گزار راستوں کے باعث سفر ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔
یہ منفرد نظام صرف ایک ایسکلیٹر نہیں بلکہ ایک مکمل عمودی ٹرانسپورٹ نیٹ ورک ہے، جس میں 21 ایسکلیٹرز، 8 لفٹس، 4 موونگ واک ویز، 2 پیدل پل اور 2 کراس لائن راستے شامل ہیں، جو پہاڑ کے مختلف حصوں کو آپس میں منسلک کرتے ہیں۔
اس سسٹم کی مجموعی لمبائی 905 میٹر ہے جبکہ اس کی عمودی بلندی 240 سے 242 میٹر تک ہے، جو تقریباً 80 منزلہ عمارت کے برابر بنتی ہے، اس منصوبے کی بدولت پہلے ایک گھنٹے میں طے ہونے والا سفر اب صرف 20 منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے۔
یہ منصوبہ کئی دہائیوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے، جس کا ابتدائی تصور 2002 میں پیش کیا گیا تھا، تاہم مالی اور تکنیکی وجوہات کی بنا پر اس پر کام مؤخر کر دیا گیا، بعد ازاں 2022 میں بڑھتی ہوئی ٹریفک اور شہری ضروریات کے پیش نظر اسے دوبارہ شروع کیا گیا۔
ماہرین نے اس کے لیے مختلف آپشنز جیسے کیبل کار، ریل سسٹم اور سیاحتی ٹرینز پر غور کیا، تاہم ایسکلیٹر سسٹم کو زیادہ محفوظ، کم لاگت اور پہاڑی جغرافیے کے مطابق موزوں قرار دے کر منتخب کیا گیا۔
تعمیر کے دوران انجینئرز کو شدید جغرافیائی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، جن میں 35 فیصد اوسط ڈھلوان، بعض مقامات پر 60 فیصد تک ڈھلوان، زیر زمین پائپ لائنز اور گھنی آبادی شامل تھی، ان مسائل کے حل کے لیے جدید تھری ڈی سٹرکچر ڈیزائن اپنایا گیا، جس کے تحت کئی حصوں کو زمین سے بلند کر کے تعمیر کیا گیا تاکہ جگہ کی بچت ہو اور شہری ڈھانچے کو نقصان نہ پہنچے۔
ایسکلیٹر کے ساتھ شیشے کی دیواریں بھی نصب کی گئی ہیں، جن کے ذریعے مسافر سفر کے دوران دریائے یانگ زی اور اردگرد کے خوبصورت پہاڑی مناظر سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں، مزید برآں، راستے میں تین ویونگ پلیٹ فارمز اور ایک 360 ڈگری ویو پوائنٹ بھی قائم کیے گئے ہیں۔
یہ منصوبہ فروری 2026 میں آزمائشی بنیادوں پر شروع کیا گیا، جہاں ابتدائی طور پر تقریباً 3 یوآن (0.4 امریکی ڈالر) کرایہ مقرر کیا گیا ہے۔