روس کی درخواست پر سلامتی کونسل کا ایران جنگ پر بند کمرہ اجلاس آج طلب

نیویارک: (دنیا نیوز) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران جنگ پر بند کمرہ اجلاس آج طلب کر لیا۔

خبر ایجنسی کے مطابق اجلاس روس کی درخواست پر بلایا گیا، اجلاس میں امریکا اور اسرائیل پر ایران میں شہری تنصیبات پر حملوں کا معاملہ زیر بحث آئے گا، روس نے شہری تنصیبات پر حملوں کو ایجنڈے میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ سلامتی کونسل کی صدارت اس وقت امریکا کے پاس ہے۔

ادھر ایران میں گھروں پر امریکا اور اسرائیل کے فضائی حملے جاری ہیں، ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی شہر قم میں 3 گھروں پر امریکا اور اسرائیل کے فضائی حملے میں 6 افراد شہید ہوگئے۔

علاوہ ازیں تہران میں پاکستانی سفارت خانے اور سفیر کے گھر کے قریب بھی فضائی بمباری کی گئی ہے۔

دوسری جانب مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورتحال پر روس، جرمنی، چین اور کینیڈا کے وزرائے خارجہ کا بیان سامنے آیا ہے۔

امریکا کا مشرق وسطیٰ میں رویہ خطرناک ہے: روسی وزیر خارجہ

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلے عراق، شام اور لیبیا کو تباہ کیا گیا، اب ایران کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو رہا ہے، امریکا مذاکرات کے دوران ہی جارحیت شروع کر دیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماسکو ایران کا دفاع نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون کا دفاع کر رہا ہے، امریکی مذاکرات کاروں کے رویے پر براہ راست سوالات اٹھ رہے ہیں۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے مزید کہا کہ امریکا کا مشرق وسطیٰ میں رویہ خطرناک ہے، عالمی برادری کو امریکا کے اس دوہرے معیار پر غور کرنا چاہیے۔

ایرانی جوہری مسئلہ مکالمے سے حل ہونا چاہیے: چینی اور کینیڈین وزیر خارجہ

چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کینیڈین وزیر خارجہ انیتا آنند سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، اس موقع پر چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ نظر آتے ہیں، چین اور کینیڈا، ایران امریکا مذاکراتی عمل میں تعمیری کردار ادا کر سکتے ہیں۔

وانگ یی نے کہا کہ ایرانی جوہری مسئلہ مکالمے سے حل ہونا چاہیے، طاقت کے استعمال سے سنگین نتائج نکلیں گے۔

کینیڈین وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کینیڈا شہریوں کے تحفظ اور تنازع کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے پرعزم ہے، آبنائے ہرمز میں محفوظ گزرگاہ تمام فریقین کے مشترکہ مفاد میں ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش کے عالمی معیشت پر طویل المدتی نتائج سامنے آ سکتے ہیں: جرمن وزیر خارجہ

جرمن وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے معاشی اثرات دنیا بھر میں محسوس ہو رہے ہیں، آبنائے ہرمز کی بندش کے عالمی معیشت پر طویل المدتی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ خطے میں مزید عدم استحکام کو روکنا ضروری ہے، نیٹو اتحادیوں خصوصاً امریکا کے ساتھ مشترکہ مؤقف اپنانا اہم ہے، ہمارا مقصد تنازع کو جلد ختم کرنا ہے۔

جرمن وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کو مستقبل میں کسی بھی خطرے کا باعث بننے سے روکنا ضروری ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں