امریکا کا وینزویلا پر حملہ، صدر اور اہلیہ کو گرفتار کرکے ملک سے باہر منتقل کر دیا: ٹرمپ

واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا نے وینزویلا اور اس کی قیادت کے خلاف کامیاب آپریشن کر لیا، وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا۔

سوشل میڈیا پوسٹ میں امریکی صدر ٹرمپ نے وینزویلا پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ ریاستہائے متحدہ امریکا نے وینزویلا اور اس کی قیادت کے خلاف بڑے پیمانے پر ایک کامیاب کارروائی انجام دی ہے، جس کے نتیجے میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے کر ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق یہ کارروائی امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اشتراک سے کی گئی، کچھ دیر بعد تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا، آپ کی توجہ کا شکریہ۔

صدر مادورو کے ٹھکانے کا علم نہیں: نائب صدر وینزویلا

وینزویلا کے نائب صدر ڈیلسے روڈریگز نے کہا ہے کہ صدر مادورو کی موجودگی کا علم نہیں،امریکا کو صدر مادورو کے زندہ ہونے کی یقین دہانی کرانی ہوگی۔

نائب صدر ڈیلسے روڈریگز نے کہا کہ امریکی حملوں کے بعد حکومت صدر نکولس مادورو کے موجودہ ٹھکانے سے لاعلم ہے، ڈونلڈ ٹرمپ سے صدر مادورو کے زندہ ہونے کا ثبوت مانگتےہیں، سکیورٹی فورسز کوعوام کے دفاع کے لیے میدان میں اتارنے کی ہدایت کی ہے۔

وینزویلا پر امریکی حملہ

اس سے قبل اطلاعات آئیں کہ امریکی فوج نے وینزویلا کے دارالحکومت سمیت مختلف مقامات پر حملہ کردیا، دارالحکومت کراکس میں زور دار دھماکے، طیاروں کی آوازیں سنی گئیں اور مختلف علاقوں میں طیاروں کی نچلی پروازیں بھی دیکھی گئیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق وینزویلا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کا حکم دیا ہے اور وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس میں کم ازکم 7دھماکے ہوئے ہیں۔

امریکی عہدیدار نے خبر ایجنسی سے گفتگو میں بتایا کہ امریکا وینزویلا کے خلاف فوجی حملےکررہا ہے۔

امریکا نے تیل اور معدنیات پر قبضے کیلئے حملہ کیا: وینزویلا حکومت

وینزویلا حکومت نے تصدیق کی ہے کہ حملےکاراکس، میرانڈا، آراگوا اورلاگویرا ریاستوں میں ہوئے ہیں، ان امریکی حملوں کا مقصد وینزویلا کے تیل اور معدنیات پر قبضہ کرنا ہے۔

وینزویلا حکومت نے حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہےکہ امریکا ہمارے وسائل حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا، ہم امریکا کی فوجی جارحیت کو مستردکرتے ہیں۔

وینزویلا کے صدرنے حملوں کے بعد ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔

دوسری طرف روسی میڈیا یہ دعویٰ کررہا ہے کہ امریکی حملوں میں وینزویلا کےدفاعی ہیڈکوارٹرزکو نشانہ بنایاگیا ہے اور وینزویلا کے صدر صدارتی محل چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

روسی میڈیا کا کہنا ہے کہ وینزویلا کے کئی جزائر میں امریکی میرینز کے زمینی آپریشن شروع کرنے کی غیرمصدقہ اطلاعات آئی ہیں۔

اسی حوالے سے کولمبیا کے صدر نے کہا ہے کہ کراکس پرمیزائل داغے جارہے ہیں اور کراکس پر حملوں پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق کراکس کے جنوبی علاقے میں بجلی معطل ہو گئی، شہریوں کو نقل و حرکت محدود کرنے کی ہدایت کر دی گئی، مختلف مقامات سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔

کراکس میں ایک آبی ذخیرے کے قریب واقع ایک عمارت کے پاس آگ کے شعلے اور گھنا دھواں اٹھتا دیکھا گیا ہے، دھماکہ کراکس کے مرکزی فوجی اڈے فورچونا کے قریب یا اس کے آس پاس ہوا ہے، فورچونا وہاں ایک اہم فوجی اڈہ ہے، علاقے میں یکے بعد دیگرے کئی دھماکے سنے گئے، جن کے بعد بجلی بھی بند ہو گئی۔

ادھر کولمبیا میں امریکی سفارتخانے نے وینزویلا میں امریکی شہریوں کے لیے وارننگ جاری کر دی ہے، ہدایت کی گئی کہ وینزویلا اور اس کے گردونواح میں دھماکوں کی اطلاعات کے پیش نظر امریکی شہری وینزویلا کا سفر نہ کریں۔

امریکی سفارتخانے نے کہا ہے کہ امریکی شہری جو وینزویلا میں موجود ہیں وہ فوری محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں۔

روس، کیوبا، کولمبیا اور ایران کا ردعمل

ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وینزویلا کی خودمختاری ،علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی مذمت کرتےہیں، امریکی حملہ جارحیت کی واضح مثال ہے، عالمی برادری کوامریکی حملے کی مذمت کرنی چاہئے۔

ایران کی جانب سے کہا گیا کہ وینزویلا اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اورحق خودارادیت کےدفاع کا حق رکھتا ہے، سلامتی کونسل امریکی جارحیت روکنےکیلئےاقدامات کرے۔

روسی فیڈریشن کونسل کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یقین ہے عالمی برادری اس حملے کی مذمت کرے گی، وینزویلاپرحملہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، وینزویلا پرامریکی حملے کاکوئی ٹھوس جوازنہیں۔
کولمبیا کی جانب سے امریکی جارحیت کی تفصیل جاری

وینزویلا کی پڑوسی ملک کولمبیا کے صدر گستاو پیٹرو نے امریکی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور بتایا کہ امریکی حملے میں لا کارلوٹا ایئر بیس کو ناکارہ بنا کر بمباری کی گئی، کوارٹیل دے لا مونتانا (کاتیا) کو ناکارہ بنا کر بمباری کی گئی، فیڈرل لیجسلیٹو پیلس (کراکس) پر بمباری کی گئی۔

انہوں نے مزید لکھا کہ فویئرتے تیونا، جو وینزویلا کا مرکزی فوجی کمپلیکس ہے، پر بمباری کی گئی، ایل ہاتییو میں واقع ایک ہوائی اڈے پر حملہ کیا گیا، ایف۔16 بیس نمبر 3 (بارکیسیمیٹو) پر بمباری کی گئی، کراکس کے قریب چارالاوی میں واقع ایک نجی ہوائی اڈے کو بمباری کر کے ناکارہ بنا دیا گیا۔

کولمبین صدر نے لکھا کہ میر افلورس، جو کراکس میں صدارتی محل ہے، میں دفاعی منصوبہ فعال کر دیا گیا، کراکس کے بڑے حصے، جن میں سانتا مونیکا، فویئرتے تیونا، لاس ٹیکیس، 23 دے اینیرو اور دارالحکومت کے جنوبی علاقے شامل ہیں، بجلی سے محروم ہو گئے، وسطی کراکس میں حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، ہیگروتے میں واقع ایک فوجی ہیلی کاپٹر بیس کو ناکارہ بنا کر بمباری کی گئی۔

کیوبا کی جانب سے امریکی مجرمانہ حملے کی مذمت

کیوبا کے صدر میگوئل دیاز کانیل نے سوشل میڈیا پر ایک سخت بیان جاری کیا کہ واشنگٹن نے وینزویلا کے خلاف مجرمانہ حملہ کیا ہے، انہوں نے امریکی حملے پر فوری بین الاقوامی ردِعمل کا مطالبہ کیا ہے۔

ایکس پر ایک پوسٹ میں دیاز کانیل نے کہا کہ کیوبا کا کا خطہ بے دردی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، امریکی اقدام ریاستی دہشت گردی ہے جو نہ صرف وینزویلا کے عوام بلکہ وسیع پیمانے پر ہمارے براعظم امریکا کے خلاف ہے۔

انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر انقلابی نعرہ لگایا: “وطن یا موت، ہم کامیاب ہوں گے۔”

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں