اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس، ایران پر حملے کی مذمت

نیویارک: (دنیا نیوز) مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر اقوام متحدہ کے ہنگامی اجلاس میں رکن ممالک نے ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے۔

اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب میں سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے کہا کہ عالمی امن کو سنگین خطرات لاحق ہیں، اقوام متحدہ کا چارٹر تمام رکن ممالک کی سکیورٹی کی ضمانت دیتا ہے، عالمی قانون کی ہمیشہ پاسداری کی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے 20 شہروں پر حملہ ہوا ہے، ایران پر امریکی اور اسرائیلی جارحیت قابل مذمت ہے، آیت اللہ خامنہ ای کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا، ایرانی حملے سے اسرائیل میں 89 افراد زخمی ہوئے، متحدہ عرب امارات میں ایرانی حملے سے ایک شہری جاں بحق ہوا۔

روس کی ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے کی مذمت
روسی مندوب نے کہا کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے افسوسناک ہیں، ایران کیخلاف امریکی الزامات بے بنیاد ہیں، امریکا اور اسرائیل نے ایران کی سول نیو کلیئر تنصیبات کو نشانہ بنایا، ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی کوشش کی گئی۔

روسی مندوب نے امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کو جارحیت قرار دیتے ہوئھ کہا ایران میں 200 سے زائد افراد مارے گئے ہیں۔

پاکستان کی ایران پر حملوں کی شدید مذمت
پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر تشویش ہے، عالمی قوانین کی ہر صورت پاسداری کرنی چاہیے، ایران پر حملہ اس وقت کیا گیا جب سفارتی کوششیں جاری تھیں، فریقین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہیں۔

پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ اس عمل سے پورے خطے میں امن و سلامتی متاثر ہوتی ہے، ایران میں طلبہ سمیت شہریوں کی اموات پر افسوس ہے، سعودی عرب، یو اے ای، بحرین، قطر پر حملے بھی قابلِ مذمت ہیں۔

سلامتی کونسل کشیدگی ختم کرنے کا مطالبہ کرے، فرانس
فرانسیسی مندوب کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کشیدگی ختم کرنے کا مطالبہ کرے، ایران بیلسٹک میزائل پروگرام پر مذاکرات کرے، اور اپنی عالمی ذمہ داریاں پوری کرے، ایران خطے میں عدم استحکام کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں