ایران امارات اختلافات، برکس اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم، مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہو سکا
نئی دہلی: (ویب ڈیسک) برکس گروپ کے رکن ممالک ایران اور متحدہ عرب امارات کے باہمی اختلافات کے باعث برکس وزرائے خارجہ اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہو گیا، مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں بھی ناکامی ہوئی۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق نئی دہلی میں ہونے والے اجلاس کے اختتام پر میزبان ملک بھارت نے مشترکہ بیان کے بجائے ایک صدارتی اعلامیہ جاری کیا، جس میں اختلافات کی نشاندہی کی گئی۔
ایران نے ابھرتی ہوئی معیشتوں کے اتحاد برکس سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کی مذمت کرے، جبکہ امریکہ کے اتحادی متحدہ عرب امارات پر ایران نے اپنے خلاف فوجی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔
بھارت کی جانب سے جاری بیان اور اجلاس کی دستاویز میں کہا گیا کہ مغربی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بعض رکن ممالک کے درمیان مؤقف میں اختلاف پایا گیا، ان آرا میں جلد از جلد بحران کے حل، مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت اور خودمختاری و علاقائی سالمیت کے احترام جیسے نکات شامل تھے۔
اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ مذاکرات کے دوران بین الاقوامی قوانین کی پاسداری، عالمی آبی راستوں میں سمندری آمدورفت کی آزادی اور شہری انفراسٹرکچر و انسانی جانوں کے تحفظ پر زور دیا گیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پریس کانفرنس کے دوران، کسی ملک کا نام لیے بغیر، کہا کہ برکس کے ایک رکن نے بیان کے بعض حصوں کو روکا، ہمارا اس ملک سے کوئی اختلاف نہیں، وہ موجودہ جنگ میں ہمارا ہدف نہیں تھا، ہم نے صرف ان امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا جو بدقسمتی سے اس کی سرزمین پر موجود ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے بعد ازاں وزارتِ خارجہ کے ایک بیان میں کہا کہ وہ اپنی خودمختاری، قومی سلامتی یا آزادانہ فیصلوں کو متاثر کرنے والے کسی بھی الزام یا دھمکی کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔
اماراتی بیان میں مزید کہا گیا کہ امارات ’کسی بھی دھمکی، دعوے یا جارحانہ اقدام کے خلاف اپنے تمام خودمختار، قانونی، سفارتی اور فوجی حقوق محفوظ رکھتا ہے۔
امارات کے نائب وزیر خارجہ اور برکس اجلاس میں نمائندہ خلیفہ بن شاہین المرر نے کہا کہ 28 فروری 2026 سے متحدہ عرب امارات کو ایران کی جانب سے بار بار غیر ضروری اور دہشت گردانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں براہِ راست شہری تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے ایران پر بین الاقوامی سمندری راستوں میں رکاوٹ ڈالنے کا بھی الزام لگایا، جن میں آبنائے ہرمز کی عملی بندش بھی شامل ہے، متحدہ عرب امارات کسی سے تحفظ کا انتظار نہیں کرتا اور نہ ہی اس معاملے میں کسی کی معاونت کا منتظر ہے بلکہ خود ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔