ایرانی حکام نے امن معاہدے کو سفارت کاری اور دفاعی حکمت عملی کی کامیابی قرار دیدیا
تہران: (دنیا نیوز) ایران نے امن معاہدے کو سفارت کاری اور دفاعی حکمت عملی کی کامیابی قرار دے دیا۔
عرب میڈیا کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ معاہدہ کسی دباؤ یا مجبوری کا نتیجہ نہیں بلکہ طویل سفارتی کوششوں اور کئی ہفتوں پر محیط پیچیدہ مذاکرات کا ثمر ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات پاکستانی ثالثی کے ذریعے آگے بڑھے جس کے نتیجے میں دونوں فریق مفاہمت تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، قطر نے بھی ان میں کردار ادا کیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے انہوں نے ملک کا مؤثر دفاع کیا اور امریکا و اسرائیل کو واضح پیغام دیا کہ ایران کو دبایا نہیں جا سکتا، اس کی تہذیب و ریاستی شناخت کو ختم نہیں کیا جا سکتا اور اس کی خودمختاری ناقابل سمجھوتہ سرخ لکیر ہے۔
یہ معاہدہ قربانیوں، سفارتی کوششوں اور دفاعی استقامت کا نتیجہ ہے نہ کہ ایران پر مسلط کیا گیا کوئی فیصلہ، معاہدے سے چند گھنٹے قبل ایران جنگی تیاری میں تھا اور اسرائیل کے بیروت پر حملوں کے جواب میں کارروائی پر غور کیا جا رہا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جوابی حملہ کیا جاتا تو امن عمل متاثر ہو سکتا تھا اور ثالثی کی کوششیں خطرے میں پڑ سکتی تھیں، آخری لمحوں میں فوجی ردعمل کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کرنے سے معاہدے تک پہنچنے کی راہ ہموار ہوئی۔