افغان طالبان رجیم میں جبر، دہشتگردی، معاشی بحران برقرار، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری

کابل: (دنیا نیوز) قابض طالبان رجیم نے افغانستان کو اپنے شہریوں کیلئے قید خانہ اور دہشتگردوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بنا دیا۔

عالمی جریدہ نے افغان طالبان کے جابرانہ، خواتین مخالف اورآزادی کے دشمن آمرانہ نظام کو بےنقاب کردیا،

امریکی جریدہ فیئر آبزرور کے مطابق طالبان رجیم کی جانب سے افغانستان میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی اورکڑی نگرانی جاری ہے، جبکہ سخت سماجی پابندیاں بھی عائد ہیں، افغانستان طالبان رجیم میں پاکستان، ایران اوروسطی ایشیا میں دہشتگردی پھیلانے کا سب سے بڑا سبب بن چکا ہے۔

امریکی جریدہ کے مطابق افغانستان بدترین معاشی تباہی کا شکار ہے،2 کروڑ 80 لاکھ افراد کو شدید غربت کا سامنا اور80 فیصد گھرانے قرضوں تلے دب چکے ہیں، طالبان رجیم میں صرف 3 ماہ میں 336 غیرقانونی گرفتاریاں اور 59 افراد کیساتھ مارپیٹ اور بدسلو کے واقعات پیش آئے۔

طالبان کا عدالتی نظام انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہوچکا ہے، افغانستان میں آزادی صحافت کا گلاگھونٹ دیا گیا، طالبان رجیم نے خواتین کو عوامی زندگی سے مکمل بےدخل کردیا،22 لاکھ سے زائد افغان لڑکیاں اعلیٰ تعلیم سے محروم ہیں۔

ماہرین کے مطابق طالبان رجیم میں افغانستان سے پنپتی دہشتگردی پاکستان، ایران اوروسطی ایشیا سمیت پورے خطے کے امن کیلئے مستقل خطرہ بن چکی ہے، 80 فیصد آبادی کا مقروض اور 2 کروڑ 80 لاکھ افراد کاغربت کا شکار ہونا طالبان رجیم کی ناکام پالیسیوں کامنہ بولتا ثبوت ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں