الوداع علی خامنہ ای

لاہور: (ویب ڈیسک) ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای شہید کی سات روزہ آخری رسومات کا آغاز ان کی رحلت کے 125 دن بعد شروع ہو گیا ہے، ان کی آخری رسومات ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں مذہبی طریقے سے ادا کی جائیں گی۔

ان کی تدفین ابتدا میں مارچ میں ہونا تھی، لیکن امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ طویل ہونے کے باعث اسے مؤخر کر دیا گیا، 86 سالہ آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو جنگ کے پہلے دن اپنے رہائشی کمپاؤنڈ پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملے میں اپنے کئی اہلِ خانہ کے ساتھ ہلاک ہو گئے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کون تھے؟

آیت اللہ علی خامنہ ای نے 1989 میں ایران کی قیادت سنبھالی، جب آیت اللہ خمینی کا انتقال ہوا، آیت اللہ خمینی نے ایک دہائی قبل اسلامی انقلاب کی قیادت کی تھی جس نے پہلوی بادشاہت کا خاتمہ کیا، اور وہ ایران کے پہلے سپریم لیڈر بنے تھے۔

جہاں آیت اللہ خمینی انقلاب کے نظریاتی معمار تھے، وہیں آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایران کے فوجی اور نیم فوجی اداروں کو مضبوط اور منظم کیا۔

یہ جنازہ ان کے جانشین اور بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے دورِ قیادت کی پہلی بڑی سرکاری تقریب بھی ہوگی، مجتبیٰ خامنہ ای گزشتہ چار ماہ سے، جب سے امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہوئی، عوامی منظرنامے سے غائب رہے ہیں۔

سات روزہ جنازے کی تقریبات

سات روزہ پروگرام کا آغاز 3 جولائی کو تہران سے ہو گیا ہے، جہاں دنیا بھر کے رہنما، اعلیٰ سرکاری شخصیات، مذہبی رہنما اور علماء تعزیت پیش کریں گے۔

4 اور 5 جولائی

4 اور 5 جولائی کو تہران میں عوامی جنازے کی تقریبات منعقد ہوں گی، آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے کئی اہلِ خانہ کے تابوت مصلیٰ الکبیر میں عوام کے آخری دیدار کے لیے رکھے جائیں گے۔

مصلیٰ الکبیر ایران کے سب سے بڑے نماز کے اجتماعات کے مراکز میں شمار ہوتا ہے اور طویل عرصے سے اہم مذہبی تقریبات اور سرکاری ریاستی تقاریب کا مرکز رہا ہے۔

6 اور 7 جولائی

6 اور 7 جولائی کو جنازے کے جلوس تہران کے مختلف علاقوں سے گزریں گے، جس کے بعد انہیں تہران سے تقریباً 120 کلومیٹر جنوب میں واقع شہر قم لے جایا جائے گا۔

قم ایران میں شیعہ اسلامی تعلیمات کا سب سے اہم مرکز اور مقدس ترین شہروں میں سے ایک ہے، یہاں ایران کے سب سے بڑے دینی مدارس موجود ہیں جہاں ہزاروں علماء تعلیم حاصل کرتے اور تدریس کرتے ہیں، آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی اپنی دینی تعلیم کا ایک اہم حصہ یہیں حاصل کیا تھا۔

8 جولائی

8 جولائی کو ایرانی اور عراقی حکام کے مطابق نجف انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سرکاری استقبالیہ ہوگا، جس کے بعد عراق کے شہروں نجف اور کربلا میں عوامی جلوس نکالے جائیں گے۔

نجف میں واقع روضۂ امام علیؓ شیعہ مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے، جہاں ہر سال لاکھوں زائرین آتے ہیں، کربلا میں روضۂ امام حسینؓ اور حضرت عباسؓ کے مزارات بھی مقدس ترین مقامات میں شامل ہیں۔

9 جولائی

اس کے بعد میت کو دوبارہ ایران لایا جائے گا، جہاں 9 جولائی کو مشہد میں واقع روضۂ امام رضا میں تدفین کی جائے گی، مشہد ایران کا مقدس ترین شہر ہے، امام رضا شیعہ اسلام کے آٹھویں امام ہیں۔

یہ شہر آیت اللہ علی خامنہ ای کے لیے ذاتی حیثیت سے بھی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ وہ 1939 میں مشہد میں پیدا ہوئے تھے اور اپنی ابتدائی زندگی کا بڑا حصہ وہیں گزارا، انہوں نے ابتدائی دینی تعلیم مشہد کے مدارس میں حاصل کی، جس کے بعد مزید تعلیم کے لیے قم گئے۔

ایک عظیم اور قابلِ احترام شخصیت کے مزار کے قریب تدفین کو بہت بڑا اعزاز سمجھا جاتا ہے، اور یہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ایران کے اعلیٰ سیاسی رہنما اور اعلیٰ مذہبی شخصیت دونوں حیثیتوں کی عکاسی کرتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں