حماس کا غزہ حکومت سے دستبرداری کا اعلان، انتظامی کمیٹی تحلیل

غزہ: (دنیا نیوز) فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس نے 20 سال بعد غزہ میں اپنی حکومت کے خاتمے اور انتظامی کمیٹی تحلیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے شہری انتظام ایک ٹیکنوکریٹک قومی کمیٹی کے سپرد کرنے کی راہ ہموار کر دی۔

 میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس کی قیادت نے اس فیصلے کا اعلان کیا، جس کا مقصد نیشنل کمیٹی برائے سول مینجمنٹ کی بنیاد پر ایک ٹیکنوکریٹ حکومت کا قیام ہے۔

حماس کے ایک عہدیدار کے مطابق تحریک نے موجودہ حکومتی ڈھانچے کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ایک عوامی سطح پر قابلِ قبول شخصیت کو عبوری ذمہ داری سونپی جائے گی، جب تک غزہ کی قومی انتظامی کمیٹی باضابطہ طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال نہیں لیتی۔

حماس نے واضح کیا ہے کہ سول حکومت سے دستبرداری کا مطلب تنظیم کا مکمل غیر مسلح ہونے پر آمادہ ہونا نہیں، تنظیم کے مطابق انتظامی اختیارات منتقل کیے جا سکتے ہیں، تاہم اسلحے اور عسکری ونگ سے متعلق معاملہ ایک الگ موضوع ہے۔

یاد رہے کہ حماس نے 2007 میں مسلح تصادم کے بعد غزہ کا کنٹرول سنبھالا تھا اور اس کے بعد سے علاقے کی سول انتظامیہ چلا رہی تھی، موجودہ فیصلہ غزہ میں جنگ بندی کے بعد جاری سیاسی مذاکرات اور مستقبل کے انتظامی ڈھانچے سے متعلق کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو غزہ میں تقریباً دو دہائیوں بعد یہ ایک بڑی سیاسی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے، تاہم اس کا انحصار نئی فلسطینی انتظامیہ کی تشکیل، اسرائیل کے ردعمل اور جاری امن مذاکرات کی کامیابی پر ہوگا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں