ایران امریکا مذاکرات کے باوجود آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک مکمل بحال نہ ہوسکی
تہران: (دنیا نیوز) ایران، امریکا کے درمیان قطر مذاکرات میں پیش رفت کے باوجود بھی آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک مکمل بحال نہ ہو سکی۔
مارکیٹ انٹیلیجنس پر کام کرنے والے ادارے کیپلر کے مطابق 3 سے 5 جولائی کے دوران مجموعی طور پر 108 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، 28 فروری سے پہلے آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 120 سے 125 یا اس سے زائد جہاز گزرتے تھے۔
کیپلر کے مطابق ہرمز سے گزرنے والے 108 جہازوں میں مختلف بحری جہاز اور کارگو شپس شامل تھے جبکہ پابندیوں کی زد میں آنے والے جہازوں کی سرگرمی بھی دیکھی گئی، اس دوران پابندیوں کا شکار 14 بحری جہازوں کا گزرنا ریکارڈ کیا گیا۔
جہازوں کی آمدورفت کا رجحان معمولی طور پر مشرق کی نسبت مغرب کی جانب زیادہ رہا یعنی نسبتاً زیادہ بحری جہاز خلیج فارس سے نکل کر بحرِ عمان کی جانب گئے جبکہ اس کے مقابلے میں بحرِ عمان کی طرف سے خلیج فارس میں کم جہاز آئے۔
اس دوران زیادہ تر بحری جہازوں نے ایرانی اور عمانی بحری راستوں کا استعمال کیا جبکہ بعض جہاز آئی ایم او سے رجسٹرڈ اور ڈارک یا نامعلوم راستوں سے بھی گزرتے رہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتِ حال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگرچہ بحری سرگرمیاں جاری ہیں، تاہم راستوں میں تقسیم اور محتاط طرزِ عمل سامنے آ رہا ہے۔