دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر کانگریس اور عام آدمی پارٹی کا ردعمل آگیا

نئی دہلی: (ویب ڈیسک) بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد اپوزیشن جماعتوں کانگریس اور عام آدمی پارٹی نے اسے طلبا کی جدوجہد کی کامیابی قرار دیتے ہوئے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

کانگریس پارٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیر تعلیم کا استعفیٰ جین زی اور کروڑوں طلبا کی فتح ہے جنہوں نے بہتر تعلیمی نظام کے لیے آواز بلند کی۔

پارٹی کے مطابق نریندر مودی کا غرور ٹوٹ گیا اور ان کے دعوے بے نقاب ہو گئے، جبکہ نوجوانوں نے ایک نااہل اور بدعنوان وزیر تعلیم کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔

کانگریس نے کہا کہ پیپر لیک کے پہلے دن سے راہول گاندھی اور پارٹی طلبا کے انصاف کے لیے جدوجہد کرتی رہی، سڑکوں پر طلبا کے ساتھ کھڑی رہی اور یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک تعلیمی نظام میں اصلاحات نہیں آ جاتیں۔

پارٹی نے مطالبہ کیا کہ نریندر مودی طلبا پر لاٹھی چارج اور پیلٹ گن کے استعمال پر معافی مانگیں۔

ادھر عام آدمی پارٹی کے رہنما منیش سسوڈیا نے کہا کہ دھرمیندر پردھان نے اپنی مرضی سے استعفیٰ نہیں دیا بلکہ طلبا اور نوجوانوں نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر استعفیٰ رضاکارانہ ہوتا تو پیپر لیک کے وقت ہی دے دیا جاتا۔

منیش سسوڈیا نے کہا کہ ملک کو بڑے تعلیمی انقلاب کی ضرورت ہے، طلبا کی طاقت نے حکومت کو جھکنے پر مجبور کیا ہے اور اب پورے نظام تعلیم میں جامع اصلاحات کا وقت آ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پردھان کا استعفیٰ اس بات کا ثبوت ہے کہ نوجوان متحد ہو کر آواز بلند کریں تو بڑی تبدیلی ممکن ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...