طالبان رجیم کی ناکامی پر امریکی محکمہ خارجہ کا دوٹوک مؤقف

کابل: (دنیا نیوز) افغان طالبان رجیم دوحہ معاہدے میں کیے گئے امن کے وعدے پورے کرنے میں ناکام، افغانستان دہشتگردوں کی آماجگاہ بن گیا۔

امریکی وزارت خارجہ نے افغان طالبان رجیم کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مکمل طور پر ناکام قرا ر دے دیا۔

وائس آف امریکہ کو موصول ہونے والی ایک آفیشل ای میل میں امریکی محکمہ خارجہ نے واضح کیا کہ افغان طالبان رجیم انسداد دہشت گردی کے وعدے پورے کرنے میں مسلسل ناکام رہی ہے، انتہا پسند دہشت گرد گروہ افغانستان کو محفوظ پناہ گاہ اور گھناؤنے علاقائی حملوں کے لیے لانچنگ پیڈ بنا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ افغان طالبان کی ناکامی نے تشدد کو ہوا دی، جس سے خطے کا امن اور استحکام شدید متاثر ہوا ہے، تاہم یہ ردعمل روس اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے افغانستان میں داعش اور القاعدہ کی سرگرمیوں پر تشویش کے بعد سامنے آیا ہے۔

حال ہی میں افغانستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے خبردار کیا ہے کہ داعش خراسان افغانستان کو بیس بنا کر وسطی ایشیا تک خلافت کو پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔

روسی محکمہ خارجہ کے ڈائریکٹر پیوٹر ایلیچیف نے 19ویں انسدادِ دہشت گردی اجلاس میں افغانستان سے پیدا ہونے والے سکیورٹی خطرات پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان نے امن کے نام پر صرف دنیا کو دھوکہ دیا ہے، تاہم افغانستان میں اس وقت 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں کے 23 ہزار جنگجو سرگرم ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...