ترکیہ: کالعدم کردستان ورکرز پارٹی کے جنگجوؤں کے لیے سزا میں نرمی کا قانون منظور
انقرہ: (ویب ڈیسک) ترکی کی پارلیمنٹ نے کالعدم کردستان ورکرز پارٹی یعنی پی کے کے کے متعدد سابق جنگجوؤں کو جزوی معافی، قید کی سزائیں معطل کرنے کا قانون منظور کر لیا۔
ٹی آر ٹی کے مطابق انقرہ حکومت اور پی کے کے کے درمیان جاری امن عمل کے تحت پیش کیے گئے اس فریم ورک لا کے حق میں 468 ارکان نے ووٹ دیا، جبکہ 88 نے مخالفت کی اور چھ ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا، صرف قوم پرست اپوزیشن جماعت گڈ پارٹی کے ارکان نے اس بل کی بھرپور مخالفت کی۔
قانون کے تحت زیادہ تر جرائم کے حوالے سے تحقیقات اور عدالتی کارروائیاں معطل کر دی جائیں گی، تاہم پی کے کے کی سرگرمیوں کے دوران کیے گئے قتل کے جرائم اس قانون سے مستثنیٰ ہوں گے، اس کے علاوہ 2005 سے پہلے کیے گئے بعض ایسے جرائم بھی قانون کے دائرے سے باہر رہیں گے جن کی سزا عمر قید ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ جیل میں قید کردستان ورکرز پارٹی کے رہنما عبداللہ اوجلان اور شمالی عراق میں موجود پی کے کے کے بانی و اعلیٰ سطح کے ارکان اس قانون سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔
کردستان ورکرز پارٹی نے 40 سال سے زائد عرصے تک ترک ریاست کے خلاف مسلح شورش جاری رکھی، عبداللہ اوجلان کی اپیل کے بعد تنظیم نے 2025 میں اپنی تحلیل کا اعلان کیا اور ہتھیار ڈالنے کے عمل کے تحت ایک علامتی تقریب بھی منعقد کی۔
حکومت نواز میڈیا نے اس قانون کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے کردستان ورکرز پارٹی کے ہتھیار ڈالنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے، تاہم اپوزیشن نواز میڈیا نے اس حوالے سے زیادہ محتاط اور شکوک پر مبنی مؤقف اختیار کیا ہے، بعض اداروں نے اسے دہشت گردی کو رعایتیں دینے کے مترادف قرار دیا۔
پی کے کے تقریباً چار دہائیوں سے ترکی کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے، بائیں بازو کے نظریات کے حامی گروہ کا سنگِ بنیاد 1970 کی دہائی میں رکھا گیا تھا اور اس نے ترکی کے اندر کُردوں کے لیے ایک آزاد ریاست بنانے کے مقصد سے حکومت کے خلاف 1984 میں مسلح جدوجہد شروع کی تھی۔
کُردوں کی اکثریت جنوب مشرقی ترکی، شمال مشرقی شام، شمالی عراق، شمال مغربی ایران اور مغربی آرمینیا میں آباد ہے، ایک اندازے کے مطابق ان علاقوں میں ڈھائی سے تین کروڑ کرُد آباد ہیں، انہیں عربوں، فارسیوں اور ترکوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی چوتھی بڑی قوم سمجھا جاتا ہے، لیکن ان کے پاس اپنا کوئی ملک نہیں ہے۔
کُرد ترکی کی آبادی کا 15 سے 20 فیصد حصہ ہیں، 1920 اور 1930 کی دہائیوں کے دوران ہونے بغاوتوں کے سبب ترکی میں کردوں جیسے نام رکھنے، ان کے لباس پہننے اور ان کی زبان بولنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی، اس وقت کردوں کو پہاڑی تُرک کہا جاتا تھا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments