امریکا کا مشرق وسطیٰ میں فوجی تنصیبات کی تعداد کم کرنے پر غور

واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکی فوج اور انٹیلی جنس اداروں نے مشرق وسطیٰ میں اپنے اہلکاروں اور فوجی تنصیبات کی تعداد کم کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے میں کامیاب ہونے کی صورت میں خطے میں امریکی موجودگی میں نمایاں کمی کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نائن الیون حملوں کے بعد امریکا نے عراق، افغانستان، شام، ایران، یمن اور لیبیا میں کارروائیوں کے لیے مشرق وسطیٰ میں اپنے فوجی اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کو وسیع کیا تھا، تاہم ایران کے ساتھ حالیہ تنازع نے خطے میں امریکی انفراسٹرکچر کی خامیوں اور کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق فوجی اور انٹیلی جنس حکام کے درمیان غیر رسمی بات چیت کا مقصد ممکنہ جنگ کے بعد کی حکمت عملی تیار کرنا ہے، تاہم صدر کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی واضح پالیسی سامنے نہیں آئی۔

ذرائع کے مطابق اس وقت مشرق وسطیٰ میں تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی، 2 طیارہ بردار بحری جہاز اور ایک درجن سے زائد دیگر جنگی بحری جہاز موجود ہیں، جبکہ واپس بلائے گئے سی آئی اے اہلکاروں کو بھی دوبارہ خطے میں بھیجا جا رہا ہے۔

امریکی فوج خطے میں موجود باقی ماندہ دستوں کے دفاع کو مزید مضبوط بنانے کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔

دو ذرائع کے مطابق ڈرون اور میزائل حملوں سے بچاؤ کے لیے بعض حساس تنصیبات کو زیرِ زمین منتقل کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے، پینٹاگون طویل عرصے سے فوجی اڈوں کو زیرِ زمین منتقل کرنے پر غور کرتا رہا ہے، تاہم ایرانی حملوں کے بعد اس منصوبے پر فوری عملدرآمد کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔

فوجی حکام نے آئندہ سال تک خطے میں امریکی فورسز کے ڈھانچے میں ممکنہ تبدیلی کے لیے مختلف لائحہ عمل بھی تیار کر لیے ہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...