بھارت اور یورپی یونین کا تاریخی تجارتی معاہدے پر اتفاق
یہ واقعی ’مدر آف آل ڈیلز ‘:مودی ،یورپ بھارت تاریخ رقم کر رہے :یورپی کمیشن 97فیصدیورپی برآمدات پرٹیرف کم یا مکمل ختم ،4ارب ڈالر کی ڈیوٹی بچت متوقع معاہدے پر امریکا کی کڑی تنقید، بھارت روسی تیل خرید کر ماسکو کو فائدہ پہنچا رہا :امریکا
نئی دہلی،واشنگٹن (اے ایف پی،دنیا مانیٹرنگ) بھارت اور یورپی یونین نے منگل کو ایک بڑے اور تاریخی تجارتی معاہدے کا اعلان کیا ہے جسے فریقین نے مدر آف آل ڈیلز قرار دیا ہے ۔ یہ معاہدہ دو دہائیوں پر محیط مذاکرات کے بعد طے پایا ہے ،یورپی یونین کی قیادت اور بھارتی وزیر اعظم مودی کو امید ہے کہ یہ معاہدہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں، امریکا اور چین، سے درپیش چیلنجز کے مقابلے میں ایک حفاظتی ڈھال ثابت ہوگا۔27 ملکی یورپی بلاک کے مطابق اس معاہدے کے تحت یورپی برآمدات کے تقریباً 97 فیصد پر ٹیرف کم یا مکمل طور پر ختم کر دئیے جائیں گے ، جس سے سالانہ تقریباً 4 ارب یورو (4اعشاریہ 75 ارب ڈالر) کی ڈیوٹی بچت متوقع ہے ۔وزیر اعظم مودی نے نئی دہلی میں یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لیئن اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا سے ملاقات کے بعد کہایہ واقعی مدر آف آل ڈیلز ہے۔
یہ معاہدہ بھارت کے 1 ارب40کروڑ عوام اور یورپی یونین کے کروڑوں لوگوں کے لیے بے شمار مواقع پیدا کرے گا، مودی کے مطابق بھارت کے لیے یہ معاہدہ ٹیکسٹائل، قیمتی پتھروں اور زیورات، چمڑے کی مصنوعات اور خدمات کے شعبے کو فروغ دے گا۔یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لیئن نے ایک بیان میں کہایورپ اور بھارت آج تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ہم نے دو ارب افراد پر مشتمل ایک آزاد تجارتی زون قائم کر دیا ہے ، جس سے دونوں فریق فائدہ اٹھائیں گے ۔ارسلا فان ڈیر لیئن نے سوشل میڈیا پر لکھا بھارت اور یورپ نے ایک واضح انتخاب کیا ہے ، سٹریٹجک شراکت داری، مکالمے اور کشادگی کا انتخاب۔ہم ایک منقسم دنیا کو دکھا رہے ہیں کہ ایک اور راستہ بھی ممکن ہے ۔ارسلا فان ڈیر لیئن نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ بھارت کو یورپی برآمدات دگنی ہو جائیں گی، اور یہ کہ یورپی یونین کو روایتی طور پر محفوظ بھارتی منڈی میں کسی بھی تجارتی شراکت دار کو دی جانے والی اب تک کی سب سے زیادہ سطح کی رسائی حاصل ہوگی۔
یورپی کمپنیوں کو بھارتی مالیاتی خدمات اور سمندری نقل و حمل کی منڈیوں تک خصوصی رسائی بھی دی جائے گی۔یورپی حکام کے مطابق یورپ کے زرعی، آٹوموبائل اور خدمات کے اہم شعبوں کو اس معاہدے سے نمایاں فائدہ پہنچنے کی توقع ہے جبکہ نئی دہلی یورپی یونین کو جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کا ایک اہم ذریعہ سمجھتا ہے ، جو بھارت کے بنیادی ڈھانچے کو تیزی سے وسعت دینے اور لاکھوں نئی نوکریاں پیدا کرنے میں مدد دے سکتا ہے ۔اس معاہدے کے تحت بھارت یورپی مصنوعات کے لیے اپنی منڈی تک رسائی میں نرمی کرے گا۔گاڑیوں پر عائد ٹیرف کو مرحلہ وار کم کر کے زیادہ سے زیادہ 110 فیصد سے گھٹا کر 10 فیصد تک لایا جائے گا، جبکہ شراب پر عائد ڈیوٹی 150 فیصد سے کم ہو کر 20 فیصد تک آ جائے گی۔یورپی یونین کے مطابق اس وقت 50 فیصد پر موجود پراسیس شدہ غذاؤں جن میں پاستا اور چاکلیٹ شامل ہیں پر ٹیرف مکمل طور پر ختم کر دئیے جائیں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی دہلی جو کئی دہائیوں سے اہم عسکری ساز و سامان کے لیے ماسکو پر انحصار کرتا رہا ہے ، حالیہ برسوں میں روس پر اپنا انحصار کم کرنے ، درآمدات کو متنوع بنانے اور مقامی صنعتی بنیاد کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔یورپ بھی اسی طرح امریکا پر انحصار کم کرنے کی سمت میں پیش رفت کر رہا ہے ۔یورپی یونین اور بھارت کے درمیان تجارتی معاہدے پر امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کڑی تنقید کی ہے ۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ یورپ نے اسی بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ کیا ہے جس کی وجہ سے پورے بلاک کو روس کے ساتھ یوکرین جنگ میں مشکلات کا سامنا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یورپ بھارت کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ کر کے بالواسطہ طور پر یوکرین کے خلاف جنگ میں روس کو فنڈ کر رہا ہے ۔ یورپ براہِ راست روس سے توانائی کی خریداری کم کرچکا ہے لیکن بھارت میں ریفائن ہونے والی روسی تیل کی مصنوعات خرید کر اب بھی ماسکو کو فائدہ پہنچا رہا ہے ۔