مبصرین نے ٹرمپ کی ذہنی حالت پر سوال اٹھا دیئے
واشنگٹن (اے ایف پی)ڈونلڈ ٹرمپ نے ہمیشہ متنازعہ اور تیز بیانات دینے کی شہرت رکھی ہے۔ لیکن حالیہ دھمکیوں جیسے ایران کی تہذیب کو ختم کرنے کی بات نے مبصرین کو امریکی صدر کی ذہنی حالت پر سوال اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔
امریکا کے سب سے عمر رسیدہ صدر نے مشرق وسطٰی میں جنگ ختم کرنے کیلئے تہران کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے پر اپنی قیامت خیز بیان بازی میں شدت پیدا کر دی ہے ۔یہاں تک کہ کچھ سابق اتحادیوں نے بھی 79 سالہ صدر کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا، خاص طور پر ان کے سوشل میڈیا پر بعض غیر معمولی اور سخت زبان والے پیغامات کے بعد۔ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھاکہ ایک پوری تہذیب آج رات ختم ہو جائے گی اور دوبارہ کبھی نہیں آئے گی۔ میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو، لیکن شاید یہ ہو جائے ۔ عالمی سطح پر خدشات بڑھنے پر وائٹ ہاؤس نے واضح کیا کہ ٹرمپ کے بیان اور نائب صدر جے ڈی وینس کے تبصرے کہ ہمارے پاس کچھ ایسے آلات ہیں جنہیں استعمال کرنے کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا، کا مطلب یہ نہیں کہ صدر جوہری ہتھیار استعمال کرنے والے ہیں۔
ماضی میں ٹرمپ اکثر اپنے مذاکراتی انداز کی تعریف کرتے رہے ہیں، جس میں وہ زیادہ سے زیادہ مطالبات رکھتے ہیں تاکہ کسی معاہدے سے زیادہ فائدہ حاصل کر سکیں۔ جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے سکول آف میڈیا کے ڈائریکٹر پیٹر لوگے نے اے ایف پی کو بتایا کہ پچھلے مقابلے میں وہ واقعی تھوڑے زیادہ غیر مستحکم لگ رہے ہیں۔تاہم انہوں نے مزید کہاکہ میرے خیال میں یہ ٹرمپ کی عام دھمکیوں اور بڑبڑاہٹ کا ایک حصہ لگتا ہے ،میرا اندازہ ہے کہ جب ہم ایک اور ڈیڈ لائن کے قریب پہنچیں گے تو صدر فتح کا اعلان کریں گے ، کہیں گے کہ میں ایران کو مذاکرات کی میز پر لے آیا اور انہیں دو ہفتے مزید دوں گا۔پھر ہم یہ منظر کچھ ہفتوں بعد دوبارہ دیکھیں گے ۔ ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے صدارتی معیار سے بھی زیادہ متنازعہ ماحول پیدا کر دیا ہے ۔پیر کو وائٹ ہاؤس میں ایسٹر ایگ رول کے موقع پر میڈیا کے ساتھ گفتگو میں بھی صدر زیادہ محتاط نہیں تھے۔
سیکڑوں بچوں، خاتون اول میلانیا ٹرمپ کی موجودگی میں صدر نے ایرانی پاور پلانٹس اور سول انفراسٹرکچر پر حملے کو جنگی جرم قرار دینے سے انکار کیا۔صدر کی اس شدید زبان نے کئی نقادوں بشمول کچھ سابق اتحادیوں کو ٹرمپ کی ذہنی حالت پر سوال اٹھانے پر مجبور کر دیا۔سابق سخت گیر رکن کانگریس مارجوری ٹیلر گرین جو گزشتہ سال ٹرمپ سے الگ ہو گئی تھیں، نے ایکس پر کہا کہ ہم ایک پوری تہذیب کو نہیں مار سکتے ، یہ شر اور پاگل پن ہے ۔ٹرمپ کے سابق حامیوں نے بھی ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر صدر کی کابینہ سے مطالبہ کیا کہ وہ 25ویں ترمیم استعمال کریں، جو بیمار یا نااہل صدر کی صورت میں اقتدار کی منتقلی کی اجازت دیتی ہے ۔سخت گیر ٹی وی میزبان ٹکر کارلسن نے ایسٹر سنڈے کے ٹرمپ کے بیانات کو جوہری جنگ کی پہلی سیڑھی قرار دیا۔ سابق وائٹ ہاؤس پریس سیکرٹری انتھونی سکاراموچی نے انہیں پاگل شخص کہا اور ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا، جبکہ سازشی مفکر ایلکس جونز نے INFO WARS شو میں پوچھا کہ ہم 25ویں ترمیم کیسے نافذ کریں؟۔سابق ڈیموکریٹک نائب صدارتی امیدوار ٹم والز نے کہا کہ صدر اپنا دماغی توازن کھو چکے ہیں۔