جنگ:خلیجی ممالک متبادل تجارتی راستوں کی تلاش پرمجبور

 جنگ:خلیجی ممالک متبادل تجارتی راستوں کی تلاش پرمجبور

کویت، قطر اور بحرین کے پاس آبنائے ہرمز کے سوا متبادل تجارتی گزرگاہ نہیں

دبئی (اے ایف پی)ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے خلیجی بادشاہتوں کو اپنی تیل اور تجارتی گزرگاہوں پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے تاہم ان راستوں کو تبدیل کرنا آسان نہیں ہوگا۔آبنائے ہرمز(جو خلیج میں داخلے کا واحد سمندری راستہ ہے )کی ممکنہ بندش کے پیش نظر خطے کے عرب ممالک ایران کے اثر و رسوخ سے بچنے کیلئے متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں۔متحدہ عرب امارات کے خصوصی ایلچی برائے کاروبار و فلاح بدر جعفر نے اپریل کے اوائل میں فنانشل ٹائمز میں لکھا کہ خلیجی ریاستیں کبھی بھی ایک ایسے تنگ سمندری راستے پر سٹرٹیجک انحصار کی پوزیشن پر واپس نہیں جائیں گی جو ایک غیر متوقع ہمسائے کے کنٹرول میں ہو۔انہوں نے زور دیا کہ نئی پائپ لائنز اور بندرگاہی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے گا اور بجلی کے نظام، آبی ڈھانچے اور تجارتی راہداریوں کو باقاعدہ شکل دی جائے گی جو خطے کی معیشتوں کو آپس میں جوڑتی ہیں تاہم ماہرین کے مطابق معاشی، سیاسی اور علاقائی سفارتی رقابتیں ان منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔عالمی خبررساں ادارے کے مطابق کویت، قطر اور بحرین کے پاس خلیج سے باہر کوئی ساحل موجود نہیں، اس لئے سمندری راستے سے تیل اور گیس کی ترسیل کیلئے ان کے پاس آبنائے ہرمز کے سوا کوئی متبادل نہیں۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پاس ایسی پائپ لائنیں موجود ہیں جن کے ذریعے وہ اپنی کچھ برآمدات ہرمز سے باہر کی بندرگاہوں تک پہنچا سکتے ہیں اور مزید منصوبے بھی زیر غور ہیں تاہم یہ پائپ لائنیں دونوں ممالک کی جنگ سے پہلے کی برآمدات کے صرف ایک حصے کو ہی سنبھال سکتی ہیں اور اگر وہ مکمل طور پر آبنائے ہرمز پر انحصار ختم کرنا چاہیں تو انہیں مزید توسیع دینا ہوگی۔پیرس میں قائم عرب گلف سٹیٹس انسٹی ٹیوٹ کے ماہر رابرٹ موگیل نِکی کے مطابق نئی پائپ لائنوں کی تعمیر میں وقت لگے گا اور اس طرح کا انفراسٹرکچر بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں