بی جے پی مغربی بنگال او ر آسام کے انتخابات میں کامیاب

 بی جے پی مغربی بنگال او ر آسام کے انتخابات میں کامیاب

تامل ناڈو میں اداکار کی پارٹی فاتح ، کیرالہ میں کانگریس نے کمیونسٹوں کو ہرا دیا

 نئی دہلی (اے ایف پی)بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے پیر کو دعویٰ کیا کہ حزبِ اختلاف کے زیرِ اقتدار ریاست مغربی بنگال میں ہونے والے اہم انتخابات میں ان کی جماعت نے "ریکارڈ" کامیابی حاصل کی ہے ، سرکاری رجحانات اور جزوی نتائج کے مطابق ان کی ہندو قوم پرست جماعت واضح اکثریت کی جانب بڑھ رہی ہے ۔ریاستی دارالحکومت کولکتہ میں پارٹی کے سینئر رہنماؤں اور ہزاروں کارکنوں نے سڑکوں پر نکل کر جشن منایا اور فتح کی دھنوں پر خوشی کا اظہار کیا۔قومی پارلیمان میں برسرِ اقتدار جماعت بی جے پی نے مغربی بنگال میں 2011 سے حکمران آتش مزاج رہنما ممتا بینرجی کی طاقتور علاقائی جماعت کو ہٹانے کے لیے بھرپور اور جارحانہ مہم چلائی۔ریاست میں کئی گنتی مراکز کے باہر جھڑپیں بھی ہوئیں، جنہیں قابو میں لانے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ ماضی میں بھی انتخابات کے دوران تشدد دیکھنے میں آتا رہا ہے ۔اس انتخابی مہم کے دوران ووٹر فہرستوں سے لاکھوں نام نکالنے پر احتجاج بھی سامنے آیا۔ جنوبی ریاست تامل ناڈو کے وزیرِ اعلیٰ اور تجربہ کار سیاستدان ایم کے سٹالن کو ایک اور بڑے انتخابی دھچکے میں اپنی نشست سے ہاتھ دھونا پڑا۔ان کی جماعت دراوڑ منیترا کزگم (ڈی ایم کے ) اداکار سے سیاستدان بننے والے سی جوزف وجے کی قائم کردہ جماعت کے مقابلے میں دوسرے نمبر پر رہی۔51 سالہ وجے ، جو بھارت کے مقبول ترین اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں، نے 2024 میں اپنی ٹی وی کے جماعت قائم کی، جس کی بنیاد نوجوانوں کے روزگار اور اچھی حکمرانی کے نعروں پر رکھی گئی۔ پڑوسی ریاست کیرالا میں کانگریس کی قیادت میں اتحاد نے حکمران کمیونسٹوں کو شکست دیتے ہوئے 97 میں سے 63 نشستیں حاصل کر لیں۔بی جے پی نے شمال مشرقی ریاست آسام اور ساحلی علاقے پانڈوچری میں بھی اقتدار برقرار رکھا، جہاں وہ حکومتی اتحاد کا حصہ تھی۔آسام کے وزیرِ اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے ریاست میں مسلسل تیسری بار کامیابی حاصل کرنے پر اسے "ہیٹ ٹرک" قرار دیتے ہوئے جشن منایا۔

 

 

 

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں