اسرائیل نے ابراہیمی مسجد کا کنٹرول فلسطینی انتظامیہ سے چھین لیا
الخلیل(اے ایف پی ) اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیرِ خزانہ بیزلیل سموتریچ نے مقبوضہ مغربی کنارے کے تاریخی شہر الخلیل (ہیبروں) میں واقع مسلمانوں کے مقدس مقام مسجدِ ابراہیمی پر فلسطینی اتھارٹی کا انتظامی کنٹرول ختم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔۔۔
صدر محمود عباس کے دفتر اور فلسطینی اتھارٹی نے اس یکطرفہ اقدام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے ۔ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ماضی میں ہوئے معاہدوں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ ابراہیمی مسجد جہاں حضرت ابراہیمؑ اور دیگر انبیاء کرام کے مزارات ہیں مسلم، یہودی اور مسیحی برادریوں کیلئے یکساں مقدس مانی جاتی ہے ۔ 1997 کے ایک باہمی معاہدے کے تحت اس کا انتظام فلسطینیوں کے پاس تھا، تاہم حالیہ برسوں میں اسرائیل نے اس معاہدے کو مسلسل کمزور کیا ہے ۔