’’اے آئی بلبلہ ‘‘پھٹنے کا خوف پھیلنے لگا
یہ امریکی اور عالمی معیشت کیلئے ہولناک ترین بحران ثابت ہو سکتا پانچ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مالیت چین کی کل معیشت کے برابر سپیس ایکس کے 25 ارب ڈالر بانڈز کے اعلان سے شیئرز گر گئے ٹیک سٹاکس کو شدید مندی کا سامنا ،اے آئی مارکیٹ کریش ہونے کے خطرات
واشنگٹن (اے ایف پی )ٹیک کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں حالیہ شدید اتار چڑھاؤ نے وال اسٹریٹ پر ایک بار پھر اے آئی بلبلہ پھٹنے کے خوف کو زندہ کر دیا ہے ۔ معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایسا ہوا ، تو اس کے نتیجے میں آنے والا بحران امریکی اور عالمی معیشت کے لیے اب تک کا سب سے بڑا اور ہولناک ترین بحران ثابت ہو سکتا ہے ۔ یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے وارٹن سکول میں فنانس کے پروفیسر ایتے گولڈسٹین کا کہنا ہے کہ: ایسے کئی اشارے مل رہے ہیں جو واضح کرتے ہیں کہ ہم اس وقت ایک معاشی بلبلے کے دور میں جی رہے ہیں، اور کمپنیوں کی قیمتیں ان کی اصل مالیت سے کہیں زیادہ لگ رہی ہیں۔ اعداد و شمار بھی اس تشویشناک صورتحال کی تصدیق کرتے ہیں۔ وال اسٹریٹ پر موجود صرف پانچ سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مجموعی مالیت 18 ٹریلین (18 ہزار ارب) ڈالر تک پہنچ چکی ہے ، جو کہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت یعنی چین کی کل معیشت کے تقریباً برابر ہے ۔ان بڑی کمپنیوں نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے شعبے میں اندھا دھند سرمایہ کاری کی ہے ، اور اب سرمایہ کاروں میں یہ بے چینی بڑھ رہی ہے کہ آیا اس کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا کوئی حقیقی منافع بھی حاصل ہوگا یا نہیں۔ صرف چھ ماہ قبل یہی کمپنیاں اپنے شیئرز خود واپس خرید رہی تھیں، جو اس بات کی علامت تھا کہ ان کے پاس ضرورت سے زیادہ نقد رقم موجود ہے جس سے شیئرز کی قیمتیں اوپر جا رہی تھیں۔ لیکن اب صورتحال بالکل برعکس ہو چکی ہے ؛ یہ کمپنیاں AI کے بنیادی ڈھانچے کو کھڑا کرنے کے لیے مارکیٹ سے بھاری قرضے لے رہی ہیں۔
برانڈیز انویسٹمنٹ پارٹنرز کے ڈائریکٹر برینٹ فریڈبرگ کا کہنا ہے کہ: اگرچہ ابھی لیا جانے والا قرضہ نسبتاً کم ہے ، لیکن امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے حال ہی میں سود کی شرح میں اضافے کے اشاروں نے اس ادھار کو کمپنیوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ اور مہنگا بنا دیا ہے ۔ خلائی اور اے آئی کے شعبے کی نامور کمپنی اسپیس ایکس نے اپنے حالیہ بلاک بسٹر آئی پی او کے فوراً بعد اس ہفتے 25 ارب ڈالر کے بانڈز جاری کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اس اچانک اعلان نے کمپنی کی مالیاتی صحت پر سوالات کھڑے کر دئیے ہیں، جس کے باعث اس کے شیئرز کی قیمت میں کمی دیکھی گئی۔ تجزیہ کاروں نے ایک اور خطرناک رجحان کی نشاندہی کی ہے جسے سرکلر فنانسنگ کہا جا رہا ہے ۔ اس کے تحت بڑی ٹیک کمپنیاں اے آئی کے چھوٹے اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کرتی ہیں، اور وہ اسٹارٹ اپس اسی سرمائے کو گھما کر دوبارہ انہی بڑی کمپنیوں کی مصنوعات اور کلاؤڈ سروسز خریدنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ماہرین اسے تاش کے پتوں کا محل قرار دے رہے ہیں جو کسی بھی وقت گر سکتا ہے ۔ موجودہ ہفتے کے دوران ٹیک اسٹاکس کو شدید مندی کا سامنا کرنا پڑا، جس نے اے آئی مارکیٹ کے کریش ہونے کے پرانے خوف کو دوبارہ جگا دیا۔
اگرچہ یونیکریڈٹ (UniCredit) کے ڈائریکٹر کرسچن اسٹوکر جیسے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ مارکیٹ کا ایک عارضی اتار چڑھاؤ اور سرمایہ کاروں کی طرف سے منافع سمیٹنے (Profit-taking) کا عمل ہے ، نہ کہ کسی بڑے بحران کی شروعات، لیکن کچھ اشارے ایسے ہیں جنہیں نظرانداز کرنا ناممکن ہے۔ سافٹ ویئر اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی دنیا کا بہت بڑا نام، اوریکل، اس ہفتے صرف 5 دنوں میں 19 فیصد گر گیا۔ یہ سنہ 2000 کے بدنام زمانہ ڈاٹ کام بلبلہ کے بعد کمپنی کی تاریخ کا بدترین ہفتہ تھا۔ یاد رہے کہ اگست 2001 کے تاریخی کریش کے دوران اوریکل کے شیئرز 20 فیصد گرے تھے ۔ اگر اے آئی کا یہ بلبلہ پھٹتا ہے ، تو اس کے اثرات ماضی کے تمام معاشی بحرانوں سے بالکل مختلف اور کہیں زیادہ تباہ کن ہوں گے ۔دنیا کی سب سے بڑی اور مضبوط ترین کمپنیوں کو براہ راست دھچکا لگے گا ۔کروڑوں عام امریکیوں کے ریٹائرمنٹ اکاؤنٹس (401k) اور بچتیں ٹیک اسٹاکس سے جڑی ہیں، جو سب ڈوب سکتی ہیں۔پروفیسر گولڈسٹین کے مطابق، چونکہ اس بار خطرے کی زد میں فنانشل مارکیٹ کی وہ کمپنیاں ہیں جو پوری دنیا کی معیشت کو کنٹرول کرتی ہیں، اس لیے اگر انہیں ضرب لگی، تو اس کے ہولناک اثرات صرف وال اسٹریٹ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ہر عام و خاص کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔