بھارت :گوگل ڈیٹا سنٹرکی تعمیر پر مقامی آبادی کے تحفظات
وشاکھاپٹنم شہر میں ماحولیاتی اثرات ،روزمرہ زندگی متاثر ہونے کے خدشات ماحول پر اثرات کے جائزے تک ڈیٹا سنٹرکی تعمیربند کی جائے :ماحولیاتی کارکن اے آئی تنصیب میں پانی کے بجائے جدید ایئر کولنگ نظام استعمال ہو گا:گوگل
بنگلورو (اے ایف پی)بھارت کے شہر وشاکھاپٹنم میں گوگل کے ایک بڑے ڈیٹا سنٹر کی تعمیر پر مقامی آبادی نے ماحولیاتی اثرات اور روزمرہ زندگی متاثر ہونے کے خدشات ظاہر کرتے ہوئے مخالفت کی ہے ۔ تاہم گوگل کا کہنا ہے کہ آندھرا پردیش میں 15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے تحت قائم ہونے والی مصنوعی ذہانت کی تنصیب میں پانی کے بجائے جدید ایئر کولنگ نظام استعمال کیا جائے گا۔ کمپنی کے مطابق منصوبہ 2028 میں فعال ہونے کی توقع ہے ۔ گوگل کا کہنا ہے کہ ڈیٹا سنٹر سے مقامی معیشت کو سالانہ تقریباً 68 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کا فائدہ پہنچ سکتا ہے ، جبکہ تعمیر کے دوران سالانہ اوسطاً 4ہزار200 کارکنوں کو روزگار ملے گا۔ دوسری جانب ماحولیاتی کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آندھرا پردیش میں نئے ڈیٹا سنٹرکی تعمیر اس وقت تک روک دی جائے جب تک ماحول اور مقامی آبادی پر ان کے اثرات کا واضح جائزہ سامنے نہیں آتا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments