نئی امریکی کانگریس اسرائیل کیلئے سخت پالیسی کی حامی

 نئی امریکی کانگریس اسرائیل کیلئے سخت پالیسی کی حامی

امریکا کی سیاسی صورت حال اسرائیل کے لیے ’’تباہ کن‘‘ ،اسرائیلی صحافی آئزن کوٹ نرم لہجے سے کانگریس کا سخت رویہ نہیں بدل سکتے ،پالیسی بدلنا ہوگی

یروشلم (اے ایف پی )اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف مشترکہ جنگی کارروائیوں کی تشہیر کرنے والے انتخابی پوسٹر اب  بھی اسرائیلی بسوں پر آویزاں ہیں، جن میں دونوں رہنماؤں کے ساتھ جنگی طیارے بھی دکھائے گئے ہیں، لیکن دونوں ملکوں کے درمیان اتحاد کی اصل صورت حال اب ان تصویروں سے خاصی مختلف دکھائی دے رہی ہے ۔اسرائیل میں نیتن یاہو کے لیے غیر فیصلہ کن انتخابی نتائج کے ایک ہفتے بعد امریکی ووٹرز نے بھی ٹرمپ کی ری پبلکن جماعت کو مسترد کرتے ہوئے ڈیموکریٹس کی قیادت میں کانگریس منتخب کر لی ہے ۔ نئی کانگریس اسرائیل کے حوالے سے زیادہ سخت پالیسی کی حامی ہے ، خواہ معاملہ ایران کا ہو، غزہ کی جنگ کا یا مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے فلسطینیوں پر حملوں کا۔یکے بعد دیگرے ہونے والے دونوں انتخابات کو بہت سے مبصرین اسرائیل اور امریکا کے تعلقات میں ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیل اب یہ فرض نہیں کر سکتا کہ دنیا کی سب سے طاقتور ریاست ہر صورت اس کی پشت پناہی کرتی رہے گی۔

نیتن یاہو کے قریب سمجھے جانے والے اسرائیلی صحافی امیت سیگل نے امریکی سیاسی صورت حال کو اسرائیل کے لیے ’’تباہ کن‘‘ قرار دیا۔اسرائیل میں نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے مختلف جماعتوں کو ایک اتحاد میں جمع کرنے کی کوشش کرنے والے اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ نے خود کو امریکا کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے موزوں شخصیت کے طور پر پیش کیا ہے ۔تاہم مبصرین کا کہنا تھا کہ آئزن کوٹ محض نرم لہجے اور بہتر شخصی تعلقات کے ذریعے نئی امریکی کانگریس کا سخت رویہ تبدیل نہیں کر سکیں گے بلکہ انہیں اسرائیلی پالیسیوں میں بھی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...