آج ملکی تاریخ کا سب سے بڑا بحران ،ایک ماہ بہت اہم،پی ڈی ایم کے ریلوکٹے کچھ نہیں کرسکتے :عمران خان
لاہور (سیاسی رپورٹرسے ، نیوز ایجنسیاں ) چیئرمین تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آج پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا بحران ہے ، ملک میں فیصلہ کن وقت ہے ،
ایک ماہ بہت اہم ہے ،پی ڈی ایم کے ریلو کٹے کچھ نہیں کرسکتے ، ملک کی صورتحال سری لنکا جیسی ہو گئی ہے ، یہ انتظا ر میں ہیں باہر سے پیسوں کی دو تھیلیاں مل جائیں لیکن ان کو کوئی ملک پیسہ نہیں دیگا ،تمام اداروں سے کہتا ہوں ملک ہم سب کے ہاتھ سے نکل جائیگا،تحریک انصاف کو کمزور کرنے کی کوششیں جاری ہیں ،خدا کے واسطے اسٹیبلشمنٹ کوئی سیاسی انجینئرنگ نہ کرے اس سے ملک کو نقصان ہو گا ۔کراچی میں خواتین کنونشن سے لاہور سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ 90 کی دہائی کے بعد پاکستان زوال کا شکار ہوا، پاکستان میں بحران کا ذمہ دار صرف ایک شخص ہے ، بحران مزید بڑھے گا، ہم مقابلہ کریں گے ، 20 سال 2 خاندان ایک دوسرے کو چور کہتے رہے ، ملک میں بحران کے حوالے سے 7 ماہ پہلے پیشگوئی کی تھی۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پی ڈی ایم کی ساری ترقی اشتہاروں اور پروپیگنڈا میں ہوتی ہے ، صاف و شفاف الیکشن سے ہی شفاف حکومت بنے گی، پاکستان کو دلدل سے نکالنے کیلئے مضبوط حکومت چاہیے ، ہم تیاری کر رہے ہیں پاکستان کو مشکل وقت سے کیسے نکالنا ہے۔
سب نے مل کر جدوجہد کر کے ملک کو بحران سے نکالنا ہے ، پی ڈی ایم کا مقصد اپنی چوری بچانا تھا، انہوں نے نیب ترامیم کرکے کرپشن کی اجازت دے دی۔سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ملک میں سب سے پہلے صاف وشفاف انتخابات چاہتے ہیں، پولیٹیکل انجینئرنگ سے مسائل حل نہیں ہوں گے ، پاکستان میں اس وقت مضبوط حکومت کی ضرورت ہے ، آٹا مل نہیں رہا، لوگ آٹے کے حصول کیلئے جانیں گنوا رہے ہیں، پاکستانی مایوس ہو کر ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں، ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے ، موجودہ حکومت ایجنڈے کے تحت آئی، ملک دشمنوں کا ایجنڈا پورا ہورہا ہے ۔50 سال میں سب سے زیادہ مہنگائی آج ہے اور بڑھتی جا رہی ہے ، ہم وزارتوں کیلئے نہیں، ملک کی خاطر نکل رہے ہیں، پاکستان کو اس بحران سے مل کر نکالنا ہوگا۔عمران خان نے کہا ہے کہ جہاں ہم آج کھڑے ہیں اس میں سے بڑا ہاتھ جنرل (ر) باجوہ کا ہے جس کے پاس بہت بڑی طاقت تھی ۔عمران خان نے کہا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ وہ کون شخص تھا جس کے فیصلے سے ملک میں ایسا بحران آیا ہے جس کی پیشن گوئی سات ماہ قبل کردی تھی۔عمران خان نے کہا کہ بدقسمتی سے اسٹیبلشمنٹ نے ماضی سے سبق نہیں سیکھے اور آج ہم پولیٹیکل انجینئرنگ ہوتے دیکھ رہے ہیں جس میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کو اکٹھا کرنے ، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کو پیپلز پارٹی میں دھکیلنے ،جنوبی پنجاب میں پیپلز پارٹی کو مضبوط کرنا اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت لانے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں ایک اور گیم چل رہی ہے کہ تحریک انصاف کو کمزور کیا جائے ۔
عمران خان نے کہا کہ ملک کو دلدل سے ٹیکنوکریٹ حکومت نہیں بلکہ صرف تحریک انصاف نکال سکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ عقل تو یہ کہتی ہے کہ ملک میں ایک مضبوط سیاسی حکومت لائیں جو ملک کو دلدل سے نکالے اور اگر کمزور سیٹ اپ لانا ہے تو وہ ویسے بھی نہیں چل سکتا۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ جن سے ہم بھیک مانگ رہے ہیں وہ پاکستان کو قسط دینے کے لیے ملکی سلامتی پر بھاری قیمت ادا کرنے کا کہیں گے اور اس پر ہم سمجھوتہ کرکے ملک کا مستقبل خطرے میں ڈال کر وہ قیمت ادا کریں گے ، لہٰذا ایک مضبوط حکومت آئے جس سے کاروباری طبقے اور سرمایہ کاروں کو اعتماد ہو کہ پانچ سال کے لیے آئی ہے ۔ہم اب سری لنکا بننے جا رہے ہیں جہاں لوگ سڑکوں پر ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ملک کو تباہ کرنے کے ایجنڈے پر آئی ہے تاکہ ملک کمزور ہو اور بیرونی ایجنڈے پر ملک ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے ۔انہوں نے کراچی کی خواتین سے مخاطب ہوکر کہا کہ اب یہ آپ کے لیے سیاست نہیں جہاد ہے کیونکہ آپ اپنے ملک اور قوم کے لیے نکل رہے ہیں نہ کہ اپنی ذات کے لیے ۔یہ دونوں جماعتیں 20 سال سے ایک دوسرے کو کرپٹ کہتی رہیں اور دونوں ہی سچ کہتی رہیں۔ 90 کی دہائی میں جب ان دونوں کی پارٹنرشپ ہوئی تو ملک بحران میں چلا گیا۔ یہ ساری جماعتیں ایک طرف ہو گئی ہیں اور اب قوم کی نظریں پی ٹی آئی پر لگی ہیں جو ملک کو مشکل سے نکالے گی۔ ہم چاہتے ہیں کہ صاف و شفاف الیکشن ہوں۔ ایک مضبوط حکومت آئے جس پر کاروباری طبقے کو اعتماد ہو کہ پانچ سال کے لیے آئی ہے ۔ پی ڈی ایم کے ریلو کٹے یہ نہیں کر سکتے ۔
ان کا کام منی لانڈرنگ کرنا ہے ۔ انہوں نے نیب ترمیم کر کے کرپشن کو لائسنس دے دیا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ روپیہ گر گیا ہے اور مہنگائی بھی بڑھتی جا رہی ہے ۔ پاکستانی ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ امید ختم ہو گئی ہے ۔ جب لوگ دیکھتے ہیں کہ طاقتور حلقے بھی ان کے ساتھ کھڑے ہیں تو لوگ مایوس ہو رہے ہیں۔یہ امپورٹڈ حکومت ملک کو کمزور کرنے آئی ہے ۔ یہی ہمارا دشمن چاہتا ہے ۔ ہم کسی کی سپورٹ نہیں چاہتے ۔ ہم صاف و شفاف الیکشن چاہتے ۔عمران خان نے کہا ہے کہ جن سے ہم بھیک مانگ رہے ہیں انہوں نے بیل آؤٹ کیلئے پاکستان سے بھاری قیمت مانگنی ہے ، جو بڑی قیمت ہم پاکستان کی سلامتی پر سمجھوتہ کرکے دینگے ، ملک کا مستقبل خطرے میں ڈال کر وہ قیمت دینا پڑے گی، ایک ہی حل ہے کہ ایک مضبوط حکومت آئے جس پر لوگوں، بزنس کمیونٹی کواعتماد ہو کہ پانچ سال کیلئے آئی ہے ۔ اس کے بعد وہ حکومت انقلابی اقدام اٹھائے اور وہ سرجری کرے پاکستان کی جو کوئی کمزور حکومت نہیں کرسکتی، یہ جو ریلوکٹے آئے ہوئے ہیں پی ڈی ایم کے ،یہ نہیں کر سکتے ، عمران خان نے کہا پرامن انقلاب بیلٹ باکس کے ذریعے لانا چاہتا ہوں، عمران خان نے کہا کہ ‘بدقسمتی سے ہماری اسٹیبلشمنٹ نے ماضی سے سبق نہیں سیکھے ۔
آج ہم پولیٹیکل انجینئرنگ ہوتی دیکھ رہے ہیں۔سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ ‘یہاں پنجاب میں ن لیگ کی حکومت کو پنجاب میں لانا چاہتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ایک اور گیم چل رہی ہے تا کہ تحریک انصاف کو کمزور کیا جائے ۔ ان کے مطابق اس پولیٹکل انجینئرنگ کا مقصد سمجھ نہیں آ رہا ہے ۔عمران خان نے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے یہ شکوہ بھی کیا کہ ‘ہمارے طاقتور حلقے بھی ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ان کا کہنا تھا جنوبی پنجاب میں امیدواروں کو ان کے فون آ رہے ہیں کہ پیپلزپارٹی کو مضبوط کریں۔ان کا کہنا تھاکہ 90 کی دہائی سے پہلے پاکستان بہت آگے تھا، جب یہ کرپٹ خاندان اوپر بیٹھا تو 90 کی دہائی کے بعد بھارت ہم سے آگے نکل گیا، آج پاکستان تاریخ کے سب سے بڑے بحران سے گزررہا ہے ۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے سوشل میڈیا کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ لوگ تحریک انصاف کا اثاثہ ہیں،ملکی مسائل کے حل کیلئے جلد الیکشن ضروری ہیں، امید ہے فروری کے آخری تک انتخابات کی تاریخ آجائے گی، نااہلوں نے معیشت کا برا حال کر دیا، آئندہ ایک ماہ ملک کیلئے بہت اہم ہے۔
یہ انتظار میں ہیں کہ باہر سے کہیں دو تھلیاں پیسوں کی آجائیں،ان کو کہیں سے پیسے ملنے ہیں نہ معیشت ٹھیک کرسکتے ہیں، ان کے پاس حالات بہتر کرنے کیلئے کوئی پلان نہیں،اپنے کیسز ختم کرا رہے ہیں، ہم صرف صاف وشفاف الیکشن چاہتے ہیں۔ اس سے قبل سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی ایک مربوط پالیسی کی بجائے انٹیلی جنس کافوکس جعلی آڈیو ز اور ویڈیوز کی تیاری پر ہے ، ہم دہشت گردی میں خطرناک اضافہ دیکھ رہے ہیں، ہمارے سکیورٹی اہلکار مخصوص اہداف ہیں، ہم دہشت گردی کی کارروائیوں اور دھمکیوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔عمران خان سے لاہور میں عمران ٹائیگرز کے مرکزی ممبر خواجہ شمس الحسن ، بلوچستان کے کپتان سعید اللہ خان کاکڑ، کوئٹہ ریجن کے کپتان عزیز خان کاکڑ، کوئٹہ ڈسٹرکٹ کے کپتان نظرزدران ،ژوب ریجن کے کپتان کمانڈرنور کاکڑ،پشین ڈسٹرکٹ کے کپتان حاجی محمد ، پی بی 29کے کپتان ابراہیم کاکڑ نے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران عمران ٹائیگرز کی کارکردگی اور پارٹی کی فعالیت کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پی ڈی ایم اور وفاقی حکومت میں شامل جماعتوں نے ملک کی معیشت کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے اور ملک ڈیفالٹ ہونے کے قریب پہنچ چکاہے عوام مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں خود کشیاں کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے ساڑھے تین سال دور اقتدار میں ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پرگامزن کیا لیکن پی ڈی ایم اوردیگر وفاقی حکومت میں شامل جماعتوں کو یہ ترقی ہضم نہیں ہوئی اور انہوں نے ایک سازش کے تحت پی ٹی آئی کی حکومت ختم کی۔انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت سنگین بحرانوں کا شکارہے آئی ایم ایف سمیت کوئی بھی ملک پاکستان کو امداد دینے کیلئے تیار نہیں ہے ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کا واحد حل فوری طور پر صاف اورشفاف انتخابات کا انعقاد ہے ۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف عوام کی طاقت پر یقین رکھتی ہے اوران شاء اللہ آنے والا دور پاکستان تحریک انصاف کا ہی ہے ، پاکستان تحریک انصاف بلوچستان سمیت ملک بھرسے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرکے دوبارہ اقتدارمیں آئے گی۔