لوکل گورنمنٹ ایکٹ:موثر مقامی حکومتیں قائم ہوسکیں گی؟
(تجزیہ: سلمان غنی) پنجاب حکومت کی جانب سے اسمبلی سے منظور کیا جانے والا لوکل گورنمنٹ ایکٹ کیا صوبے میں مضبوط بلدیاتی سسٹم اور موثر مقامی حکومتوں کے قیام کا باعث بن پائے گا۔
اس امر کا تجزیہ اس لئے ضروری ہے کہ جمہوری سسٹم میں بلدیاتی اداروں کو بنیادی حیثیت اور اہمیت حاصل ہوتی ہے اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 140اے کے تحت مقامی حکومتوں کو مالی سیاسی اور انتظامی خود مختاری دینے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے ۔ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ڈپٹی کمشنر کو متعلقہ محکموں اور ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن فورم کا سربراہ بنایا گیا ہے ۔ عملاً اس سسٹم میں منتخب اراکین ڈپٹی کمشنر کے تابع ہوں گے اور بلدیاتی اداروں کے اختیارات میں بھی اضافہ کی بجائے کمی لائی گئی ہے ۔ ایک مرتبہ پھر سے یہ باثت ہوا ہے کہ صوبائی حکومتیں اختیارات کو نچلی سطح تک مرکوز نہیں کرنا چاہتیں ۔ ماہرین کی رائے میں اصل میں اختیارات کا مرکز مقامی حکومتیں نہیں بلکہ صوبائی حکومتیں بنی ہوئی ہیں ۔
جس کے باعث گورننس کے نظام میں پہلے سے موجود مسائل میں اور اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔لوکل گورنمنٹ ایکٹ کا جائزہ لیا جائے تو اس میں منتخب اراکین کی جگہ زیادہ اختیارات بیورو کریسی کو دیئے گئے ہیں جو سراسر آئین کے آرٹیکل C1 140 کی خلاف ورزی ہے جبکہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت صوبائی حکومتیں پابند ہیں کہ وہ اپنے اختیارات سیاسی انتظامی اور مالی طور پر مقامی حکومتوں کو منتقل کریں لیکن عملاً وہ ایسا کرنے کو تیار نہیں اور نہ ہی مقامی حکومتوں کے انتخابات کرانے میں سنجیدگی دکھائی دیتی ہیں یہی وجہ ہے مقامی حکومتوں کے ادارے مضبوط اور خود مختار نہیں بن سکے ۔ اس ایکٹ کی منظوری کے بعد بھی نہیں کہا جا سکتا بلدیاتی انتخابات کب ہوں گے ۔
صوبائی حکومتیں اس پوزیشن میں نظر نہیں آتیں کہ وہ عام آدمی کے مسائل کو ان کی دہلیز پر حل کر سکیں ۔ ماہرین کی رائے یہ ہے کہ بلدیاتی اداروں کے اختیارات بڑھنے کی بجائے کم ہو رہے ۔ حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ ہم مقامی حکومتوں کے سسٹم کو اور زیادہ بااختیار اور موثر بنائیں گے اور اس ضمن میں سب کو اعتماد میں لیا جائے گا ۔ اسے آئینی تحفظ دیں گے جسے کوئی تبدیل نہیں کر سکے گا لیکن اس دوران ہی بلدیاتی اداروں کے اختیارات سلب کر کے کمپنیز اور اتھارٹیز کو دے دیئے گئے ۔ چیف الیکشن کمشنر واضح طور پر کہہ چکے ہیں اب قانون سازی کی آڑ میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر برداشت نہیں کریں گے لیکن عملاً پنجاب میں 2013کے بعد سے اب تک بلدیاتی انتخابات ممکن نہیں بن سکے ۔ماہرین کا کہنا ہے ملک میں ضلعی حکومتوں کا سسٹم موثر اور فعال ہوتا تو نئے صوبوں کی تحریک سامنے نہیں آنی تھی۔