خیبر پختونخوا : عدالتی حکم پر 25 ارکان کا حلف، آج سینیٹ الیکشن

خیبر پختونخوا : عدالتی حکم پر 25 ارکان کا حلف، آج سینیٹ الیکشن

پشاور (دنیا نیوز، نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) خیبرپختونخوا میں مخصوص نشستوں پر منتخب 25 ارکان سے گورنر فیصل کریم کنڈی نے پشاور ہائیکورٹ کے حکم پر حلف لے لیا۔ حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس میں ہوئی جس میں امیر مقام، اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد،مولانا لطف الرحمن، صدر محمد علی باچا، رضا اللہ چغرمٹی، ایم پی اے ملک طارق، ایم پی جلال خان شریک ہوئے۔

نو منتخب اراکین میں 9 جے یو آئی ،مسلم لیگ ن کے 8 اور پیپلز پارٹی کے 5 ممبران نے بطور رکن خیبرپختونخوا اسمبلی حلف اٹھایا۔مخصوص نشست پر عوامی نیشنل پارٹی کے 2 اور پی ٹی آئی پی کے ایک رکن نے حلف لیا۔قبل ازیں پختو نخوا اسمبلی کے اجلاس میں کورم کی نشاندہی کی گئی تو حکومت کے صرف 5ارکان موجود تھے جس کے باعث اجلاس ملتوی ہو گیا اور ارکان کی حلف برداری نہ ہوسکی ۔صوبائی اسمبلی کی مخصوص نشستوں کے لئے ہونے والا اجلاس 2 گھنٹے تاخیر سے شروع ہوا ۔اجلاس کی صدارت سپیکر بابر سلیم سواتی نے کی، اجلاس شروع ہوتے ہی حکومتی رکن شیر علی آفریدی نے کورم کی نشاندہی کردی۔رہنما مسلم لیگ ن ثوبیہ شاہدنے کہا کہ آپ پانچ سال سے اس صوبے کا حق مار رہے ہیں، سپیکر بابر سلیم نے کہا کہ آپ تقریر نہ کریں ہمیں کوئی طریقہ بتائیں کہ کورم کی نشاندہی پر کیا کرتے ہیں۔ثوبیہ شاہد کا مائیک بند کردیا گیا، بابر سلیم نے کہا کہ اسمبلی میں صرف 25اراکین موجود ہیں۔ اپوزیشن نے سپیکر اسمبلی نا منظور کی نعرے بازی کی، اپوزیشن اراکین سپیکر کے ڈائس کے قریب جمع ہوگئے جس پر اجلاس 24 جولائی دوپہر دو بجے تک ملتوی کردیا گیا۔اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد نے کہا ہے کہ ایک بار پھر سیاسی نابالغو ں جیسا کام کیا ، اسمبلی میں غیر آئینی کام کیا جا رہا ہے ۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ہم اس صوبے سے تعلق رکھتے ہیں، سینیٹ الیکشن کیلئے پانچ 6 کا فارمولا طے ہے ، ہمارے معاملات اپنے طور پر قائم ہیں۔تحریک انصاف عجیب پارٹی ہے ہر کوئی اپنی اپنی بات کرتا ہے ۔اجلاس ملتوی ہونے کے بعد اپوزیشن ارکان نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ۔ پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کی جانب سے درخواست رجسٹرار کے پاس جمع کرائی گئی۔ایڈیشنل سیکرٹر ی جنرل پیپلز پارٹی ابرار سعید نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ آئینی معاملہ ہے اور منتخب اراکین سے حلف نہ لینا بنیادی جمہوری حقوق کی خلاف ورزی ہے ، مخصوص نشستوں پر کامیاب ہونے والے اراکین کو تاحال حلف سے محروم رکھا گیا ہے ، جو آئینی اور پارلیمانی روایات کے منافی ہے ، چیف جسٹس مخصوص نشستوں پر اراکین کی حلف برداری کے لیے کسی کو نامزد کریں۔ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے خیبرپختونخوا کی مخصوص نشستوں پر گورنر فیصل کریم کنڈی کو حلف لینے کا حکم دیا، رجسٹرار نے چیف جسٹس کے حکم پر جاری نوٹیفکیشن میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے 16 جولائی کو خط لکھ کر چیف جسٹس سے حلف کے لیے نامزدگی کی درخواست کی لہذا اب جتنا جلدی ممکن ہو حلف لیا جائے ۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے حلف برداری کے خلاف پٹیشن دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

پشاور سے جاری اپنے بیان میں علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستوں پر گورنر ہاؤس میں حلف آئین کی خلاف ورزی ہے ، آئین کا آرٹیکل 65 واضح ہے ، حلف صرف اسمبلی فلور پر ہو سکتا ہے ، وزیراعلیٰ اور سپیکر نے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کی ہے ، گورنر ہاؤس میں مخصوص نشستوں پر حلف کا عمل عدالت میں چیلنج کر رہے ہیں۔علی امین کا مزید کہنا تھا کہ رٹ پٹیشن مکمل کر لی،آج عدالت میں درخواست دائر کریں گے ۔ دریں اثنا گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ میں نے سینیٹ ارکان سے آئین کے مطابق حلف لیا۔ تقریب حلف برداری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ سینیٹ الیکشن کے لیے حکومت اور اپوزیشن میں ایک فارمولا طے پایا تھا۔صوبائی اسمبلی میں آزاد ارکان سے بات چیت جاری ہے ، اسمبلی میں 30 سے 35 آزاد ارکان موجود ہیں، ہم اپنا لائحہ عمل طے کر لیں گے ۔ پی ٹی آئی نے آئین کی خلاف ورزی کی، ہماری کوشش ہوگی کہ6سے 7ارکان منتخب کرائیں۔سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے گورنر کو ارکان ارکان اسمبلی سے حلف لینے کی ہدایت پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس سپریم کورٹ، چیف جسٹس پشاورہائیکورٹ اور چیف الیکشن کمشنرکو مراسلہ ارسال کیا ہے ۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کی روشنی میں سپیکراسمبلی ایک خودمختار آئینی اتھارٹی ہے ، میری جانب سے اجلاس کاملتوی کیاجانا غیرموجودگی کے زمرے میں نہیں آتا۔

پشاور ، لاہور (دنیا نیوز ، سیاسی نمائندہ ، نیوز ایجنسیاں ، مانیٹرنگ ڈیسک )خیبر پختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشستوں کے ارکان کے حلف کے بعد سینیٹ الیکشن آج ہو ں گے ۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں انتخابات کے وقت میں تبدیلی سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ انتخابات آج پیر کی صبح 9 بجے کے بجائے 11 بجے ہوں گے ۔نوٹیفکیشن کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں 7 جنرل، 2 خواتین، 2 ٹیکنوکریٹ نشستوں پر انتخابات ہوں گے ۔ ادھر خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کا اجلاس ہوا، اجلاس میں وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور، اپوزیشن لیڈر ڈاکٹرعباداللہ اور سپیکر بابر سلیم سواتی شریک تھے ۔اجلاس کے بعد وزیراعلیٰ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان دھوکا دہی نہیں ہوگی۔علی امین گنڈا پور نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے جو فیصلہ کیا تھا اسی فارمولے پرعمل کریں گے ، ان کا کہنا تھا کہ ناراض امیدواروں کے خلاف پارٹی کارروائی کرے گی، بانی پی ٹی آئی کے فیصلہ کی نفی بانی پی ٹی آئی کی نفی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن سے اتحاد صرف سینیٹ انتخابات تک ہے ، اپوزیشن کے ساتھ پہلے 8 اور 3 کے فارمولے پر اتفاق ہوا تھا، ہمارے امیدواروں کی جانب سے کاغذات واپس نہ لینے سے ہمیں نقصان ہوا، اب ہمیں 6 اور اپوزیشن کو 5 نشستیں ملیں گی۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ناراض پارٹی امیدواروں کے الیکشن لڑنے کے باوجود حکومت معاہدے کی پاس داری کرے گی۔ پی ٹی آئی نے 5 میں سے 4ارکان وقاص اورکزئی ، ارشاد حسین ، عرفان سلیم ، عائشہ بانو کو منا لیا۔

سینیٹ الیکشن سے قبل پی ٹی آئی کے کورنگ امیدوار وقاص اورکزئی نے دستبرداری کا اعلان کیا ۔الیکشن سے ایک روز قبل وقاص اورکزئی نے وزیراعلیٰ گنڈاپور کی موجودگی میں امیدواریت سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جہاں بانی کی بات ہو تو وہاں میرے لیے کوئی نہیں ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں کسی کے دباؤ میں یہ فیصلہ کر رہا ہوں۔ ٹیکنو کریٹ کی سیٹ پر امیدوار ارشاد حسین نے بھی دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے ۔قبل ازیں تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس کے لیے اپوزیشن اراکین ایوان پہنچ گئے تاہم پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کو اسمبلی ہال کے بجائے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پہنچنے کی ہدایت کی گئی ۔اس موقع پر علی امین گنڈا پور نے کہا بانی پی ٹی آئی نے جن 6 امیدواروں کی فہرست کی منظوری دی وہی پارٹی کے امیدوار ہیں۔وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے ہدایت دی تھی کہ بلا مقابلہ سینیٹرز منتخب کروانے کے لیے پارلیمانی پارٹی اور پولیٹیکل کمیٹی فیصلہ کرے ، دونوں فورمز پر متفقہ طور پر سینیٹ کے لیے امیدوار بلامقابلہ منتخب کروانے کی منظوری دی گئی۔ادھر ترجمان تحریک انصاف نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 255 کے تحت، ہائی کورٹ کا چیف جسٹس کسی شخص کو حلف دلانے کے لیے نامزد کرنے کا کوئی انتظامی اختیار نہیں رکھتا۔آرٹیکل 255(2) صرف اس وقت لاگو ہو سکتا ہے جب اصل مجاز اتھارٹی، یعنی سپیکر، دستیاب نہ ہو۔ سپیکر کی جانب سے اجلاس ملتوی کرنا غیر موجودگی نہیں کہلاتی۔

الیکشن کمیشن کے پشاور ہائیکورٹ کو خط اور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر تحریک انصاف نے ردعمل میں کہا کہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو یہ اختیار نہیں کہ وہ از خود مداخلت کریں اور کسی شخص کو حلف دلانے کے لیے مقرر کریں۔ وہ انتظامی احکامات کے پردے میں اس قسم کے عدالتی احکامات جاری نہیں کر سکتے ۔ یہ آئین کے آرٹیکل 130 اور 255 کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔حیران کن طور پر، پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کی درخواست پر یک طرفہ طور پر آرٹیکل 255 کا حوالہ دیتے ہوئے گورنر کو حلف لینے کی ہدایت جاری کی۔ یہ ایک سنگین آئینی تشویش کو جنم دیتا ہے ۔الیکشن کمیشن نے اپنی پریس ریلیز میں غلط بیانی کی ہے اور عدالت کو گمراہ کیا ہے ۔گورنر کو ہدایت دینے کے لیے خط لکھنا ایک واضح آئینی تجاوز اور آرٹیکل 255 کا غلط استعمال ہے ۔خط کے ذریعے عدالتی احکامات جاری نہیں کیے جا سکتے ۔ یہ آئینی عمل کا مذاق اُڑانے کے مترادف ہے ۔ چیف جسٹس نہ تو کوئی درخواست سن رہے تھے اور نہ ہی عدالتی حیثیت سے عمل کر رہے تھے ، پھر بھی انہوں نے گورنر کو آرٹیکل 255 کے تحت عمل کرنے کی ہدایت دی۔ادھر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں سینیٹ انتخابات کے وقت میں تبدیلی کردی، نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔ادھر پنجاب اسمبلی میں سینیٹ کی خالی نشست پر انتخاب آج ہوگا جس میں چار امیدوار مدمقابل ہوں گے جبکہ حکومتی اتحاد کو واضح برتری حاصل ہے ۔

خالی نشست پر مسلم لیگ (ن)کے حافظ عبدالکریم، تحریک انصاف کے مہر عبدالستار جبکہ خدیجہ صدیقی اور اعجاز منہاس آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔پنجاب اسمبلی کی مجموعی نشستیں 371 ہیں جن میں سے اس وقت 2 نشستیں خالی ہیں، یوں سینیٹ الیکشن کے لیے 369 ووٹ دستیاب ہوں گے ، کامیابی کے لیے امیدوار کو 184.5 یعنی کم از کم 185 ووٹ حاصل کرنا لازمی ہوں گے ۔حکومتی اتحاد کو اس وقت 261 ووٹوں کی حمایت حاصل ہے جن میں مسلم لیگ (ن) کے 229، پیپلز پارٹی کے 16، مسلم لیگ (ق) کے 11، مسلم لیگ (ض) کا ایک، اور استحکام پاکستان پارٹی کے 7 ووٹ شامل ہیں۔اپوزیشن اتحاد کو مجموعی طور پر 108 ووٹ حاصل ہیں، جن میں سنی اتحاد کونسل کے 76، تحریک انصاف کے 27، تحریک لبیک اور مجلس وحدت مسلمین کے ایک ایک ووٹ شامل ہیں۔پنجاب اسمبلی سیکرٹر یٹ نے آج 21 جولائی کو ہونے والے سینیٹ ضمنی انتخاب کے لئے ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، اسمبلی سیکرٹریٹ کو ضابطہ اخلاق الیکشن کمیشن کی جانب سے بھجوایا گیا تھا۔پولنگ اسٹیشن میں موبائل فون یا الیکٹرانک ڈیوائس لے جانا سختی سے منع ہے ۔بیلٹ پیپر کی تصاویر لینا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔امیدوار یا ان کے حامی کسی سرکاری ملازم یا عہدیدار سے مدد نہیں مانگ سکتے ۔کوئی سرکاری ملازم یا عہدیدار کسی امیدوار کی حمایت یا مخالفت نہیں کر سکتا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں