دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد پاکستانی خدشات بڑھ چکے

 دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد پاکستانی خدشات بڑھ چکے

افغان طالبان کے ذمہ داریاں قبول کرنے تک خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں

(تجزیہ :سلمان غنی)

ترکمانستان کے شہر عشق آباد میں ہونے والے بین الاقوامی فورم میں وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب اس بات کا واضح اظہار تھا کہ پاکستان خطے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر شدید تشویش رکھتا ہے ۔ عالمی برادری افغان طالبان کو اپنے اقتدار میں موجود دہشت گرد عناصر پر قابو پانے کے لیے آمادہ کرے ، اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان مسلسل افغان سرزمین پر سرگرم تنظیموں کی وجہ سے عدمِ تحفظ کا شکار ہے ۔وزیراعظم نے اس کانفرنس میں یہ مؤقف بھی دہرایا کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے ثابت قدم ہے ، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ دہشت گردی کی نئی لہر نے امن کے سفر کو مشکل بنا دیا ہے ۔ ان کے مطابق افغان طالبان نہ تو دوحہ معاہدے پر عمل درآمد کر رہے ہیں اور نہ ہی دہشت گرد عناصر کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی دکھائی دے رہی ہے ، جو خطے کے امن کے لیے خطرناک رجحان ہے ۔

اکتوبر کے بعد پاک افغان سرحد پر ہونے والی جھڑپوں نے صورتحال مزید کشیدہ کردی۔ پاکستان متعدد بار کابل انتظامیہ پر دباؤ ڈالتا رہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جائے ، لیکن افغان حکومت الزام تراشی اور تردید کے بیانیے سے آگے بڑھنے کو تیار نظر نہیں آتی۔ قطر اور ترکی کی ثالثی سے اگرچہ جنگ بندی پر اتفاق ضرور ہوا، تاہم کشیدگی برقرار ہے اور سرحدوں کی بندش سے دوطرفہ تجارت شدید متاثر ہوئی ہے ۔افغان طالبان کے ذمہ داری نہ نبھانے کی بنیادی وجہ ان کی اپنی حکومتی کمزوریاں ہیں۔ ایک طرف ان کی صفوں میں ٹی ٹی پی کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے عناصر موجود ہیں، دوسری طرف داعش، القاعدہ اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کا مضبوط نیٹ ورک ان کے کنٹرول کو چیلنج کرتا ہے ۔ ان حالات میں افغان طالبان کسی بڑے آپریشن کی پوزیشن میں نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے یہ مؤقف اپناتے ہیں کہ پاکستان اپنی سرزمین کا خود جائزہ لے ، حالانکہ اقوام متحدہ سمیت عالمی ادارے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی کی تصدیق کر چکے ہیں۔جہاں تک عالمی برادری کے دباؤ کا تعلق ہے ، تو بڑی طاقتیں طالبان حکومت کو تسلیم نہ کرنے کے باعث محدود اثر و رسوخ رکھتی ہیں۔

پابندیاں اور امداد کی بندش کچھ دباؤ تو ڈالتی ہیں، مگر طالبان کی پالیسی میں بنیادی تبدیلی نہیں لاتی۔ ماہرین کے مطابق خطے کی طاقتیں چین، روس، پاکستان، ایران، ترکی اور وسط ایشیائی ریاستیں اگر مشترکہ دباؤ ڈالیں تو ہی کوئی قابلِ عمل راستہ نکل سکتا ہے ۔پاکستان کے لیے مغربی سرحد پر بدامنی نہ صرف معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے بلکہ اندرونی امن کے لیے بھی مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہے ۔ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں سیاسی حل کی حمایت کی، مگر طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد نہ صرف دہشت گردی بڑھی بلکہ بھارت کے ساتھ ان کی قربت بھی پاکستان کے لیے تشویش کا باعث بنی،حالیہ بیان میں افغان وزیر خارجہ کا کہنا کہ طالبان حکومت کسی کو اپنی سرزمین دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں کرنے دے گی، روایتی بیانیہ ہی معلوم ہوتا ہے ۔ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ اب محض بیانات کافی نہیں، بلکہ تحریری ضمانت اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔ دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد پاکستان کے خدشات مزید بڑھ چکے ہیں۔خطے کے امن کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گردی کے مراکز کا خاتمہ ہو اور افغان طالبان اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں قبول کریں۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں