سرکاری اشتہارات کو میڈیاکیخلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا:جوائنٹ ایکشن کمیٹی
یہ پالیسی اظہار رائے کو محدود اور آزاد ی صحافت کو کمزور کرنے کی منظم حکمت عملی ، ڈان گروپ نمایاں نشانہ ہے اشتہارات کی بندش مستقبل کے خطرناک اقدامات کی طرف اشارہ ، یہ عمل صحافت اور جمہوریت کیلئے نقصان دہ :مشترکہ بیان
لاہور(سٹاف رپورٹر)صحافتی تنظیموں اور میڈیا کے نمائندہ اداروں پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز پر سرکاری اشتہارات کی بندش کو ادارتی آزادی پر براہِ راست حملہ اور میڈیا کو کنٹرول کرنے کی خطرناک کوشش قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی اور کہا سرکاری اشتہارات کو میڈیا کیخلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے ۔جوائنٹ ایکشن کمیٹی، جس میں پی بی اے ، سی پی این ای، پی ایف یو جے ، اے پی این ایس اور ایمنڈا شامل ہیں، نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا حکومت کی یہ پالیسی اظہارِ رائے کو محدود کرنے اور آزاد صحافت کو کمزور کرنے کی ایک منظم حکمتِ عملی ہے ۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ اس غیر جمہوری اقدام کا سب سے نمایاں نشانہ ڈان گروپ ہے ، جہاں ادارتی پالیسیوں اور غیر جانبدارانہ صحافت کے باعث طویل عرصے سے اخبار اور اب ٹی وی و ریڈیو کے اشتہارات بند کیے گئے ہیں۔ یہ اقدام اس بات کا اظہار ہے کہ میڈیااداروں کو معاشی نقصان پہنچا کر ان کی ادارتی آزادی سلب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اشتہارات کی بندش کی یہ کارروائیاں مستقبل کے مزید خطرناک اقدامات کی طرف اشارہ کرتی ہیں جو نہ صرف صحافت بلکہ جمہوریت کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ میڈیا اداروں کے خلاف سرکاری اشتہارات کو بطور دباؤ استعمال کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے ۔بالخصوص ڈان گروپ پر لگائی گئی اشتہاری پابندیاں فی الفور ختم کی جائیں اورایسا ماحول پیدا کرنے سے گریز کیا جائے جس کے نتیجے میں میڈیا ادارے کسی انتہائی اقدام پر مجبور ہوں۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آزاد صحافت اور عوام کے حقِ معلومات کے لیے ہر سطح پر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ۔