مذاکرات ہلکی آنچ پر چڑھی شب دیگ،جلد پکنے والی نہیں

مذاکرات ہلکی آنچ پر چڑھی شب دیگ،جلد پکنے والی نہیں

اپوزیشن نے خاموشی اختیار کرلی ،حکومت کو بھی پیشرفت میں جلدی نہیں

(تجزیہ:سلمان غنی)

ملک کو سیاسی گرداب سے نکال کر استحکام کی منزل پر لے جانے کیلئے جن مذاکرات کی بازگشت سننے میں آ رہی ہے عملاً اس جانب پیشرفت کیونکر نہیں ہو پا رہی، یہ سوال سیاسی حلقوں میں زیربحث ہے ، اور کہا یہ جا رہا ہے اپوزیشن نے حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش قبول کرکے حکومت کو مشکل میں ڈال رکھا ہے اور حکومت اس مذاکراتی عمل کو اپنی شرائط سے مشروط کرتی دکھائی دے رہی ہے ۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اﷲایک طرف مذاکراتی عمل پر پیشرفت کو 8 فروری کی کال کی واپسی سے مشروط کرتے نظر آ رہے ہیں تو دوسری جانب انہوں نے ملک کو سیاسی بحران سے نجات کیلئے پانچ بڑوں کے مل بیٹھنے کی بات کی ہے ۔کیا ایسا ممکن ہو پائے گا اور سب فریق اس کیلئے تیار ہوں گے ، ابھی اسی حوالہ سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا اس لئے کہ بڑا فریق تو خود واضح کر چکا ہے کہ سیاسی معاملات میں ان کا کوئی دخل نہیں ،جس کو بات کرنی ہے وہ حکومت سے کرے اور کیا حکومت خود سے کوئی بات چیت کرنے کی پوزیشن میں ہے ۔

فی الحال تو دیکھنے میں یہ آ رہا ہے کہ اپوزیشن نے مذاکرات کی بات کرکے خاموشی اختیار کرلی ہے تو دوسری جانب حکومت کو بھی پیشرفت میں جلدی نہیں ،حکومت مذاکرات کو پریشر ککر کے طور پر استعمال کر رہی ہے تاکہ سیاسی محاذ پر بھاپ نکلتی رہے اور کوئی ہنگامی اور غیر معمولی صورتحال طاری نہ ہو۔ بلاشبہ آج کی صورتحال میں معاشی حوالہ سے ملک خطرناک زون سے نکل چکا ہے ،اب نادہندگی کے کوئی خطرات نہیں، بیرونی محاذ پر بھی پاکستان کیلئے اچھی خبریں ہیں لیکن داخلی محاذ پر تناؤ اور ٹکراؤ کی کیفیت پاکستان کے آگے بڑھنے اور ترقی کے مراحل طے کرنے میں اصل رکاوٹ ہے ۔ حکومت اور خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف چارٹر آف اکانومی کی بات کرتے اور مل کر آگے بڑھنے کی بات کرتے ہیں لیکن جواباً پی ٹی آئی اپنی ضد اور روایتی ہٹ دھرمی پر کاربندہے ۔اپوزیشن خصوصاً محمود اچکزئی ، علامہ ناصر عباس اور مصطفی نواز کھوکھر مذاکرات کی بات کرتے نظر آ رہے ہیں۔

حکومت ان کی اس پیشکش کو اس لئے سنجیدگی سے نہیں لے رہی اسے معلوم ہے اڈیالہ جیل میں بیٹھی پی ٹی آئی کی قیادت ایسے کسی مذاکرات کو قبول نہیں کرے گی جن میں خود ان کیلئے ریلیف اور اپنے لوگوں کی رہائی کی یقین دہانی نہ ہو۔سیاسی محاذ پر ایک نکتہ جس پر غور جاری ہے کہ مذاکراتی عمل کو کیا تیسری پارٹی کی تائید بھی حاصل ہے کیونکہ کسی تیسری پارٹی کی تائید کے بغیر مذاکراتی عمل چل نہیں سکتا اور اگر چل بھی جائے تو نتیجہ خیز نہیں ہوسکتا ۔کچھ ماہرین کا کہنا ہے تیسری پارٹی بھی ایسے مذاکرات کی حامی ہوگی جس میں ان کی شرائط مانی جائیں گی البتہ جیل میں بند پی ٹی آئی کی لیڈر شپ ایسی کوئی شرائط ماننے کیلئے تیار نہیں ہوگی جن میں خود ان کا اپنا کردار ختم ہو،

اب تک کی صورتحال میں ماہرین اپنی اس رائے پر مصر ہیں کہ ملک میں درپیش ہنگامی صورتحال کے اصل فریق حکومت اور اپوزیشن نہیں بلکہ پی ٹی آئی اورپاکستان کی مقتدرہ ہے اور ان کے درمیان ڈیڈ لاک ہی مذاکرات میں اصل رکاوٹ ہے ۔حکومت مذاکرات کی بات ضرور کر رہی ہے لیکن اسے کسی پیشرفت میں جلدی نہیں بلکہ عمومی رائے یہ ہے کہ مذاکراتی عمل دراصل ہلکی آنچ پر رکھی وہ شب دیگ ہے جو جلد پکتی نظر نہیں آ رہی۔ ماہرین کا کہنا ہے اگر اگلے چند روز میں حکومت کی جانب سے مذاکرات کیلئے کمیٹی کا قیام عمل میں نہیں آتا تو پھر مذاکراتی عمل کے امکانات عملاً ختم ہو جائیں گے ۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے 8 فروری کی کال کی واپسی سمیت دو نکات اپوزیشن کو دئیے ہیں کہ وہ اس حوالہ سے مثبت جواب دے گی تو حکومت آگے بڑھے گی ورنہ مذاکرات اور مزاحمت کو ساتھ چلا کرایسا کوئی عمل ممکن نہیں ہوگا ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں