وینز ویلاپر امریکی کیخلاف دنیا بھر میں احتجاج،عبوری صدر نے درست فیصلے نہ کئے تو مادورو سے بڑی قیمت چکانا پڑیگی :ٹرمپ

وینز ویلاپر امریکی کیخلاف دنیا بھر میں احتجاج،عبوری صدر نے درست فیصلے نہ کئے تو مادورو سے بڑی قیمت چکانا پڑیگی :ٹرمپ

وینزویلا شاید امریکی مداخلت کا آخری ملک نہ ہو:امریکی صدر ،ہم نے کسی ملک پر قبضہ نہیں کیا:مارکو روبیو،امریکا کی کالونی نہیں بنیں گے :عبوری وینزویلین صدر امریکی آپریشن میں فوجیوں ،شہریوں سمیت 80 ہلاک ،ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے ،ٹرمپ کیخلاف نعرے ،پاکستان ،بھارت اور کئی ملکوں میں مظاہرے لاطینی امریکی ممالک نے وینزویلا پر بیرونی کنٹرول مسترد کر دیا،چین کا امریکا سے مادورو کی فوری رہائی کا مطالبہ،گرفتار وینزویلین صدر ، اہلیہ کی آج عدالت میں پیشی

واشنگٹن، پیرس، روم،کراکس(اے ایف پی، دنیا مانیٹرنگ )امریکا کی جانب سے وینزویلا پر حملے اور صدر نکولس مادور اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کے خلاف واشنگٹن اور دیگر امریکی شہروں سمیت دنیا بھر میں مظاہرے ہوئے ۔مظاہرین نے وینزویلا میں غیر قانونی کارروائی کرنے پر امریکی صدر ٹرمپ کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ۔امریکی میڈیا کے مطابق شکاگو سمیت متعدد شہروں میں عوامی مظاہرے ہوئے ، جن میں لوگوں نے وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کو غیر قانونی اور جارحیت قرار دیا، مظاہرین نے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں کے خلاف شدید نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے ۔واشنگٹن اور پورٹ لینڈ میں شرکا نے امریکی مداخلت کے خلاف نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ امریکا کو وینزویلا سمیت کسی بھی غیر ضروری جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہئے ۔نیو یارک شہر کے ٹائمز اسکوائر میں مظاہرین نے ریلی نکالی اور صدر ٹرمپ کی گرفتاری کا مطالبہ کیا، پیرس میں بائیں بازو کے مظاہرین نے وینزویلا پر امریکی حملوں کی مذمت کی اور وینزویلا کے جھنڈے لہرائے ۔ یونان کے دار الحکومت ایتھنز میں ہزاروں افراد نے مارچ کیا، روم میں اٹلی کے شہریوں کا وینزویلا میں امریکی آپریشن کے خلاف احتجاج ہوا۔

امریکی جارحیت کے خلاف ارجنٹائن اور کولمبیا میں بھی مظاہرے کیے گئے ،سپین اور ہالینڈ میں ہزاروں افراد نے وینزویلا میں امریکی آپریشن کیخلاف ریلیاں نکالیں ۔ کراچی میں بھی وینزویلا میں امریکی مداخلت کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جبکہ بھارت میں بنگلورو سمیت کئی شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں ۔ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو امریکا لانے کے بعد نیویارک کی ایک جیل منتقل کردیا گیا ۔عدالتی ترجمان نے کہا مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس پیر کو نیویارک کے مین ہٹن میں وفاقی عدالت میں پیش ہوں گے ۔ سماعت مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے مقرر کی گئی ہے ۔یاد رہے مادورو اور ان کی اہلیہ کو ہفتے کو وینزویلا میں امریکی فوجی آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا،وائٹ ہاؤس کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کے اہلکار نکولس مادورو کو ہتھکڑیاں لگا کر نیویارک کے علاقے مین ہیٹن میں ڈی ای اے کی ایک عمارت کے اندر لے جا رہے ہیں۔ویڈیو میں مادورو کو انگریزی میں یہ کہتے ہوئے بھی سنا گیا کہ ‘گڈ نائٹ، ہیپی نیو ائر’۔

ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وینزویلا کی عبوری صدر نے اگر امریکا کے ساتھ تعاون نہ کیا تو انہیں بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔مادورو کی گرفتاری کے بعد امریکا وینزویلا کو چلانا چاہتا ہے ۔امریکی صدر کا کہنا تھا عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز وہ کام کرنے پر تیار ہیں جو امریکا ضروری سمجھتا ہے ۔وینزویلا میں امریکی حملے کے دوران کئی کیوبائی ہلاک ہوئے جو صدر مادورو کی حفاظت کر رہے تھے ۔ امریکا وینزویلا کے تیل کے وسائل کو کنٹرول کرے گا،اس وقت وینزویلا میں ان کے کابینہ کے افراد کو انتظام سنبھالنے کے لیے مقرر کیا جائے گا اور مستقبل میں امریکی فوج بھی تعینات کی جا سکتی ہے ۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ملک کی تیل کمپنیوں کو اربوں ڈالر لگانے اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے کام شروع کرنا ہوگا۔وینزویلا شاید امریکی مداخلت کا آخری ملک نہ ہو،انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں گرین لینڈ کی ضرورت ہے ، اگر آپ گرین لینڈ پر ایک نظر ڈالیں تو وہاں ہر جگہ روسی اور چینی جہاز موجود ہیں۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا کی موجودہ قیادت کے ساتھ کام کرے گی،روبیو نے وضاحت دی کہ امریکا وینزویلا میں مکمل حکومت کی تبدیلی کا خواہاں نہیں ہے اور صرف منشیات سمگلروں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ امریکی فورسز وینزویلا میں جنگ نہیں لڑ رہی ہیں۔ روبیو نے کہا کہ امریکا ڈیلسی روڈریگیز اور مادورو کی کابینہ کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے بشرطیکہ وہ امریکی مطالبات کو تسلیم کریں۔انہوں نے کہا واشنگٹن چاہتا ہے کراکس میں موجود قیادت پالیسی میں تبدیلیاں لائے ۔ وینزویلا میں انتخابات کے بارے میں بات کرنا ابھی قبل از وقت ہے ۔ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ وینزویلا کے باقی رہنماؤں کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے اگر وہ صحیح فیصلہ کریں۔روبیو نے کہا کہ امریکا ہر عمل کو اس کے نتائج کے مطابق پرکھے گا اور اگر رہنما درست فیصلے نہیں کرتے تو امریکا کے پاس متعدد اثر و رسوخ کے ذرائع موجود ہوں گے ۔ہم نے کسی ملک پر قبضہ نہیں کیا۔وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ کے وینزویلا کو چلانے کے دعوے کو مسترد کر دیا اور واضح کیا کہ وینزویلا کسی بھی ملک کی کالونی نہیں بنے گا، صدر مادورو کو اغوا کیا گیا ہے ، نکولس مادورو ہی وینزویلا کے صدر ہیں۔ڈیلسی روڈریگیز نے کہا کہ ملک کے دفاع کے لیے عوام صبر اور اتحاد سے کام لیں، امریکی فوج کی کارروائی کے بعد ہم وینزویلا کے دفاع اور اپنے قدرتی وسائل کے تحفظ کیلئے تیار ہیں۔

وینزویلا کے وزیر دفاع جنرل ولادیمیر پادرینو لوپیز نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق نائب صدر ڈیلسی روڈریگیز کو 90 دن کے لیے عبوری صدر مقرر کیا گیا ہے ۔ عدالت نے مادورو کو مستقل طور پر غیر حاضر قرار نہیں دیا، کیونکہ اس کے لیے 30 دن کے اندر انتخابات کرانے کا حکم ضروری ہے ۔ انہوں نے وینزویلا کے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے معمولات زندگی کو دوبارہ شروع کریں اور اس بحران کے باوجود ملک کو آئینی راستے پر چلائیں۔ پادرینو نے مادورو کے اغوا کو بزدلانہ قرار دیا ۔ جنرل ولادیمیر پادرینو نے کہا کہ سابق صدر نکولس مادورو کی سکیو رٹی ٹیم کا ایک بڑا حصہ امریکی چھاپے میں مارا گیا، جس کے نتیجے میں مادورو کو ہفتہ کے روز گرفتار کر لیا گیا تھا۔ پادرینو نے ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی، تاہم نائب صدر ڈیلسی روڈریگیز کے عبوری صدر کے طور پر اعلان کی تائید کی اور کہا کہ ملک بھر میں مسلح افواج کو خودمختاری کے تحفظ کے لیے متحرک کر دیا گیا ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وینزویلا میں امریکی آپریشن کے دوران فوجیوں اور شہریوں سمیت 80افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو ئے ۔

برازیل، چلی، کولمبیا، میکسیکو، یوراگوئے اور سپین نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وہ وینزویلا پر کسی بیرونی ملک کے کنٹرول کو مسترد کرتے ہیں۔ ان ممالک نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وینزویلا کے داخلی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔چین نے امریکا سے کہا ہے کہ وہ وینزویلا کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو فوری طور پر رہا کرے ۔ چینی وزارت خارجہ نے امریکی حملے کو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔سڈنی میں، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے امریکی کارروائی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ وینزویلا میں جمہوریت اور بین الاقوامی قانون کی حمایت کرتے ہیں۔ آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ وہ مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے علاقائی استحکام کے لیے کام کریں گے ۔ نیوزی لینڈ نے بھی عالمی قانون کے تحت امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے ۔امریکا کی سابق نائب صدر اور ڈیموکریٹ سیاستدان کملا ہیرس نے وینزویلا پر امریکی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کے اقدامات سے امریکا نہ محفوظ ہوا نہ مضبوط ۔

صدر مادورو کا غیرقانونی، ظالم اور آمر ہونا اس حقیقت کو نہیں بدل سکتا کہ امریکی حملہ غیرقانونی اور غیر دانش مندانہ تھا۔ فرانس نے واضح کیا ہے کہ وینزویلا کا مستقبل صرف وہاں کے عوام کو طے کرنے کا حق حاصل ہے ، کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا اختیار نہیں۔ سپین کے وزیراعظم نے کہا کہ وہ امریکی مداخلت کو تسلیم نہیں کرتے اور یہ اقدام عالمی قوانین کے منافی ہے ۔ملائیشیا نے بھی امریکی کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری طور پر فوجی کارروائی بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ایرانی وزیر خارجہ نے وینزویلا کے ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ وینزویلا پر امریکی حملہ دہشت گردی کی بدترین مثال ہے ۔مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے بھی وینزویلا کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسانی حقوق کے احترام پر زور دیا ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز اپنی سخت گیر سامراج مخالف بیانات کے باعث جانی جاتی ہیں، سابق صدر نکولس مادورو انہیں ‘‘ٹائیگریس’’ کا لقب دیتے تھے ۔ 56 سالہ وکیل ڈیلسی ماضی میں وزیر خارجہ اور وزیر ہائیڈروکاربنز سمیت اہم عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وہ وینزویلا کی پہلی خاتون عبوری صدر بنیں، جبکہ فوج نے بھی ان کی قیادت تسلیم کر لی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں