قومی اسمبلی و سینیٹ میں اپوزیشن لیڈرز کی تقرری نہ ہوسکی

قومی اسمبلی و سینیٹ میں اپوزیشن لیڈرز کی تقرری نہ ہوسکی

تاحال ا ن عہد وں کے لئے باقاعدہ درخواستیں تک طلب نہیں کی گئیں معاملہ عدالتی نوعیت کا ، سپیکر ، جلد درخواستیں طلب کی جائیں گی ، اسمبلی ایڈوائزر

اسلام آباد (سہیل خان)پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن لیڈرز کی تقرری کے معاملے پر آئے روز نئی صورتحال سامنے آ رہی ہے ،کہیں مطالبہ ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی اصل جماعت سے کی جائے ، جب کہ پاکستان تحریک انصاف کی بھی یہی  دبی دبی خواہش سمجھی جا رہی ہے ۔ تاہم معاملہ حل ہونے کے بجائے مزید الجھتا دکھائی دے رہا ہے اور قرعہ فال کسی اور نام کے بھی نکلنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری اس وقت معمہ بنی ہوئی ہے ۔ حیران کن طور پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے انکشاف کیا ہے کہ تاحال اس عہدے کے لئے باقاعدہ درخواستیں طلب ہی نہیں کی گئیں، جس کے باعث تقرری کا عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔ سیکرٹریٹ کے مطابق تمام قانونی اور ضروری دستاویزات موصول ہونے کے بعد ہی اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا عمل شروع کیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے تمام اپوزیشن جماعتوں سے درخواستیں طلب کی جائیں گی۔اپوزیشن کے چیف وہیپ عامر ڈوگر کا کہنا ہے کہ وہ دوبارہ اپنی سابقہ درخواست جمع کروا دیں گے ۔

ان کے مطابق عمر ایوب کے خلاف مقدمات میں قومی اسمبلی کو فریق بنانے اور حکم امتناعی سے دستبرداری سے متعلق دستاویزات پہلے ہی جمع کروائی جا چکی ہیں۔دوسری جانب ایوانِ بالا (سینیٹ) میں بھی اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کا معاملہ تاحال نامکمل ہے ۔ قومی اسمبلی میں نامزد اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے تقررنامے میں تاخیر پر پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے مسلسل رابطوں کے بعد سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے مؤقف اختیار کیا کہ معاملہ عدالتی نوعیت کا ہے ۔پیچیدہ صورتحال کے پیش نظر سپیکر کی جانب سے طلب کردہ کاغذات چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے چیف وہیپ عامر ڈوگر کے ہمراہ قومی اسمبلی کے ایڈوائزر مشتاق خان کو جمع کروائے ۔ تاہم سپیکر آفس نے ان دستاویزات پر 31 دسمبر 2025 کی تاریخ درج کر دی، حالانکہ اپوزیشن لیڈر کا عہدہ اکتوبر 2025 سے خالی چلا آ رہا ہے ۔قومی اسمبلی کے ایڈوائزر نے واضح کیا ہے کہ اب باضابطہ طور پر اعلان کیا جائے گا کہ اپوزیشن لیڈر کا عہدہ خالی ہے اور تقرری کے لیے نیا عمل شروع کرتے ہوئے درخواستیں طلب کی جائیں گی۔ اس غیر متوقع پیش رفت کو پی ٹی آئی قیادت کے لیے سال کے اختتام پر ایک بڑا سرپرائز قرار دیا جا رہا ہے ۔بیرسٹر گوہر خان کے مطابق اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی کے لیے جمع کرائی گئی درخواست پر 72 ارکان کے دستخط موجود ہیں، تاہم اب نیا تقرری عمل شروع ہونے جا رہا ہے ۔  

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں