جلسے کا مشروط اجازت نامہ ، گیند پی ٹی آئی کے کورٹ میں
کراچی کے اجتماع میں تقاریر خود تحریک انصاف کیلئے بڑا امتحان بن گئیں
(تجزیہ:سلمان غنی)
پیپلزپارٹی نے پی ٹی آئی سے اپنے غیر علانیہ وعدے کا پاس کرتے ہوئے جلسے کیلئے مشروط اجازت نامہ دے کر گیند ان کے کورٹ میں ڈال دی ہے ، اب دیکھنا یہ ہوگا کہ پی ٹی آئی کے ذمہ داران اور خصوصاً وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کیا حکومت سندھ سے کئے وعدے کا پاس کریں گے ؟ ۔پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت پر امن و امان کے ذمہ داران اداروں کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ پی ٹی آئی حسب روایت مذکورہ جلسہ کی صورت میں کوئی ہنگامی یا غیر معمولی صورتحال پیدا کرے گی اور اس کا ٹارگٹ بعض ادارے ہوں گے جس پر سندھ حکومت نے پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کو باور کرایا ہے کہ ہم ایک سیاسی جماعت کے طور پر آزادی رائے اور اجتماع کی آزادی کے حق کو تسلیم کرتے ہیں مگر موجودہ حالات میں امن و امان بارے ادارے زیروٹالرنس پالیسی پر گامزن ہیں اور وہ ایسی کسی صورتحال کے متحمل نہیں ہوں گے کہ یہاں غیر معمولی صورتحال طاری ہو یا کسی جماعت کے ذمہ داران ریاستی اداروں کو ٹارگٹ کرتے نظر آئیں جس پر اطلاعات ہیں کہ پی ٹی آئی کے ذمہ داران کی یقین دہانی پر مشروط اجازت نامہ جاری کر دیا گیا ہے اور اجازت نامہ پر خود پی ٹی آئی کے ذمہ داران کے دستخط بھی موجود ہیں۔
لہٰذا موجودہ صورتحال میں مذکورہ اجازت جہاں خود سندھ حکومت کیلئے امتحان تھی وہاں اب گیند پی ٹی آئی کے کورٹ میں آ گیا ہے اور اجتماع میں تقاریر خود پی ٹی آئی کیلئے بڑا امتحان بن گئی ہیں۔ پی ٹی آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ہمارا یہ جلسہ اپنے ایشوز کے حوالے سے اہم ہے ۔ہم اپنے اوپر طاری مشکلات اور مقدمات کے عمل اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں کے خلاف ردعمل کا اظہار ضرور کریں گے اور ہمارا ٹارگٹ ریاست نہیں حکومت ہوگی اور یہ ہمارا جمہوری اور آئینی حق ہے ۔ سندھ حکومت نے ہمیں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دیکر اچھا میسج دیا ہے جس کی ہم قدر کرتے ہیں اور ہمارا کوئی طرز عمل ان کیلئے مسائل کا باعث نہیں ہوگا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی کراچی کے جلسہ میں اپنے خطاب کو محتاط رکھیں گے ۔ جہاں تک جلسہ کی کامیابی کا سوال ہے تو پی ٹی آئی کو پہلی دفعہ آزادانہ فضا میں جلسہ کی اجازت مل رہی ہے جس سے اس پر کئی حلقوں کی نظریں ہیں اور مذکورہ جلسہ کے حوالے سے یہی کہا جا رہا ہے کہ مذکورہ جلسہ مستقبل میں پی ٹی آئی کی سرگرمیوں اور ان کے طرز عمل کا احاطہ کرے گا کہ وہ نئے حالات میں کیسی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جلسہ بڑا ہوگا یا چھوٹا لیکن اصل سوال یہ ہوگا کہ پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کی جانب سے دی جانے والی اس اجازت کو اعلیٰ سطح کے حلقوں میں کیسے لیا جائے گا۔ پی ٹی آئی جس سٹریٹ پاور کا دعویٰ کرتی آ رہی ہے ،اس کا پتہ آج کراچی کے جلسہ سے ہوگا کہ آگے اس کیلئے فضا کتنی سازگار بنتی ہے ۔